مقالات و مضامین

ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات و مسائل

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر ۱۸ ستمبر کو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات و مسائل‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو صبح ساڑھے دس بجے شروع ہو کر چار بجے تک جاری رہا۔ اس سال اکادمی میں دو نئی کلاسوں کا آغاز کیا گیا ہے، ایک کلاس حفظ قرآن کریم کی ہے جس میں حفظ کے ساتھ مڈل تک عصری تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے اور دوسری درس نظامی کے اولٰی اور ثانیہ کے درجات کے ساتھ تین سال میں میٹرک تک تعلیم کی کلاس ہے جس کے ساتھ گوجرانوالہ بورڈ سے میٹرک کا امتحان دلوایا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۲۰۱۱ء

سی پیک معاہدات پر بحث کی ضرورت

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سی پیک معاہدات‘‘ کو قومی اسمبلی میں زیربحث لایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ قرضے ہیں یا سرمایہ کاری ہے؟ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان سے مہاجر یہاں آئے تھے اب چینی گوادر میں بہت تعداد میں آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کی معدنیات چین لے جا رہا ہے اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ کتنا سونا اور دوسری معدنیات نکل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۱۸ء

حضرت مولانا قاضی عصمت اللہؒ / حضرت مولانا محمد الطافؒ / مولانا خلیل احمد نعمانیؒ

مولانا سید عبد المالک شاہ اور مولانا میاں عبد الرحمان کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دو اور بزرگ علماء کرام حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ اور حضرت مولانا محمد الطاف کی وفات کی غمناک خبر سننا پڑ گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دونوں بزرگ ملک کے بڑے علماء میں سے تھے اور ان کی دینی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کے شاگردوں کا دائرہ بھی خاصی وسعت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ نومبر ۲۰۱۱ء

خطبائے کرام سے چند گزارشات

چند ہفتے قبل میں نے اس کالم میں قرائے کرام اور نعت خواں حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کیں تو ایک معروف نعت خواں دوست نے فون پر شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے بارے میں تو بہت کچھ لکھ دیا ہے مگر خطباء اور مقررین کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ میں نے عرض کیا کہ اسی کالم میں یہ عرض کر دیا تھا کہ ابھی کہنے کی بہت سی باتیں باقی ہیں جو موقع و محل کی مناسبت سے ان شاء اللہ تعالٰی لکھی جاتی رہیں گی۔ چنانچہ آج خطبائے کرام اور مقررین کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے مرحلے میں تمہید کے طور پر کچھ واقعات پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۱۱ء

تحفظ ختم نبوت کی تنظیموں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کی ضرورت

قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں کے حوالے سے گزشتہ ایک کالم میں راقم الحروف نے کچھ معروضات پیش کی تھیں اور یہ عرض کیا تھا کہ قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کو جو مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور پاکستان کے دستوری و قانونی فیصلوں کے خلاف لابنگ کے حوالے مسلسل سے جاری ہیں، ان پر نظر رکھنے، ان کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے اور ان کے تعاقب کے لیے کوئی مربوط سسٹم دینی حلقوں میں موجود نہیں ہے۔ اور وہ تنظیمیں جو خالصتاً تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے کام کر رہی ہیں ان کی بھی اس طرف سنجیدہ توجہ دکھائی نہیں دیتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۱ء

ائمہ مساجد کی مشکلات اور ان کا حل

۱۶ رمضان المبارک کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں چالیس روزہ دورۂ تفسیر قرآن کریم کا اختتام تھا، ہم نے روایتی طرز کی کوئی تقریب رکھنے کی بجائے اس روز علماء کرام اور خطباء و ائمہ کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں علاقے کے ائمہ مساجد اور خطباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے عرض کیا کہ ہم آج اپنی طرف سے کچھ عرض نہیں کریں گے بلکہ ان ائمہ و خطباء کی بات ان کی زبانی سننا چاہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۱ء

اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع

اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں گزشتہ جون کے آخر میں منعقد ہونے والے ہم جنس پرستوں کے اجتماع پر پاکستان کے دینی و عوامی حلقوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اسے ایک غیر ملکی سفارت خانے کی طرف سے ملک کے دستور و قانون کے منافی سرگرمیوں کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ اس تہذیبی و ثقافتی کشمکش کا حصہ ہے جس کے تحت مغربی دنیا عالم اسلام میں آسمانی تعلیمات کی پابندی سے آزاد تہذیب و ثقافت کو مسلط کرنے کے لیے دباؤ، لابنگ، میڈیا، خوف اور لالچ کے تمام حربے استعمال کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۱۱ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظِ ختمِ نبوت سیمینار

پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے اس سال بھی ’’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ کا اہتمام کیا جو ۲۸ ستمبر کو ایک شادی ہال میں منعقد ہوا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، پیپلز پارٹی کی ضلعی و مقامی قیادت، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار حضرات اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجھے بطور مہمان خصوصی اس میں شرکت کا اعزاز بخشا گیا اور میں اپنے ذوق و مزاج کے خلاف ساڑھے تین چار گھنٹے تک مسلسل اس مسند پر براجمان رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ ستمبر ۲۰۱۸ء

مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات”

معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم و فکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات و فرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۸ء

ختم بخاری شریف کی تقریبات میں غیر ضروری تکلفات کا رواج

حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے دورانِ گفتگو فرمایا کہ ختم بخاری شریف کی تقریبات میں خرابیاں بڑھتی جا رہی ہیں اس لیے ہم نے جامعہ فاروقیہ کراچی میں اس کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے اور طے کیا ہے کہ بخاری شریف کا آخری سبق بھی معمول کے عام اسباق کی طرح ہوا کرے گا اور اس کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں میری رائے دریافت کی تو میں نے عرض کیا کہ ہم نے تو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں یہ سلسلہ کئی سال پہلے ختم کر دیا تھا اور اب ہمارے ہاں اس کے لیے کوئی خاص تقریب نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت

مدارس کے اردگرد رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہمارے تعلقات و روابط کا عمومی ماحول قابل اطمینان نہیں ہوتا۔ مدرسہ میں آنے جانے والوں کے ساتھ گفتگو اور ضروری معاملات میں ان کی راہنمائی کے حوالہ سے بھی عمومی طور پر ہمارے طلبہ کا طرز عمل ’’آئیڈیل‘‘ نہیں ہوتا اور کسی مدرسہ میں جانے والا اجنبی شخص وہاں چند لمحے گزارنے کے بعد کسی خوشگوار موڈ میں وہاں سے واپس نہیں جاتا۔ بعض مدارس کا ماحول یقیناً اس سے مختلف ہوگا لیکن جب مدارس کے عمومی ماحول کی بات کی جائے گی تو تاثر کم و بیش وہی ہوگا جس کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۱ء

قراء کرام اور نظم خواں حضرات کی خدمت میں!

۸ جون کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ اور ۹ جون کو جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جبکہ ۹ جون کو جامعہ فتحیہ چنیوٹ میں ختم مشکٰوۃ شریف کے حوالے سے حاضری ہوئی۔ چنیوٹ اور فیصل آباد دونوں مقامات پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیارت اور ان کے درس حدیث میں شرکت کی سعادت حاصل کی اور اجتماعات میں دینی مدارس کی خدمات اور مقاصد کے حوالے سے گفتگو کا موقع بھی ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۱ء

شیخ الہندؒ اکادمی

جب سے ہم نے اپنے اکابر سے نئی نسل کو متعارف کرانا بلکہ خود ان کی زندگیوں، جدوجہد اور دائرہ کار سے واقفیت حاصل کرنا چھوڑ رکھا ہے ’’اکابر‘‘ کا مفہوم ہی بدلتا جا رہا ہے۔ ہم نے دیوبندیت کے اپنے اپنے دائرے قائم کر رکھے ہیں اور ہر دائرے کے اکابر الگ ہیں۔ پرانے اکابر جو ہمارے اصل اکابر ہیں ان کا مصرف ہمارے ہاں صرف یہ رہ گیا ہے کہ اپنے اپنے طے کردہ دیوبندیت کے دائروں میں ان کا کوئی ارشاد یا عمل ہمیں اپنے مطلب کا مل جاتا ہے تو اپنی ترجیحات کی تائید میں اسے استعمال کر لیا جائے، اس سے زیادہ اکابر کا مفہوم اور مصرف اور کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۲۰۱۱ء

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا اعزاز

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میرے لیے مادر علمی کی حیثیت رکھتا ہے اور میری تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ میں نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۹ء تک یہاں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ہے اور دورۂ حدیث کے ساتھ رسمی تعلیم سے فراغت بھی یہیں سے پائی ہے۔ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے ۱۹۵۲ء میں اس درسگاہ کا آغاز کیا، پھر ایک دو سال کے بعد والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی شریک کار ہوگئے اور تعلیمی نظام کی سربراہی انہوں نے سنبھال لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۱۱ء

دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہماری نسبت اور اس کے تقاضے

گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی پاکستان تشریف لائے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ مولانا موصوف حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند و جانشین ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے بعد، جسے جشن صد سالہ سے بھی تعبیر کیا گیا تھا، دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد دارالعلوم دیوبند سے الگ ہونے والے علماء کرام نے دارالعلوم دیوبند (وقف) کے نام سے ایک نیا دینی تعلیمی ادارہ دیوبند میں ہی قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۱ء

قادیانی مسئلہ ۔ چند شبہات کا ازالہ

قادیانیت کے حوالے سے چار سوالات اس وقت بڑے اہم ہیں۔ ایک سوال یہ کہ کسی شخص کو نبی کہہ دینے سے آخر کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ ہم بھی تو اپنے بزرگوں کو بھاری بھر کم القابات سے نوازتے رہتے ہیں جو بسا اوقات خوفناک حد تک بھاری بھر کم ہو جاتے ہیں۔ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو علماء کرام علمی حوالوں سے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ایک صدی سے دیتے آرہے ہیں اور بڑے بڑے اہل علم نے اس کے لیے محنت کی ہے۔ یہ علمی اور تحقیقی جوابات اپنی جگہ درست اور ضروری ہیں لیکن ایک جواب علامہ محمد اقبالؒ نے دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۲۰۱۱ء

افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورۂ افغانستان کے بعد افغان تنازعہ ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی میز بچھانے کے لیے ازسرنو کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس مرحلہ میں نئی تجاویز اور امکانات کا جائزہ لینے سے قبل اب تک کی مجموعی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ضروری محسوس ہوتا ہے اس لیے ہم اپنے ایک طویل تجزیاتی مضمون کے کچھ متعلقہ حصے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی یادیں

گزشتہ روز ایک دوست نے فون پر ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بارے میں میرے تاثرات دریافت کیے اور کہا کہ انہیں ریکارڈ پر آنا چاہیے۔ ۱۹۵۳ء میں میری عمر پانچ برس تھی کہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء میری تاریخ پیدائش ہے مگر اس کی چند جھلکیاں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں۔ ہم چھوٹے چھوٹے گلیوں میں ٹولیوں کی شکل میں نعرے لگایا کرتے تھے اور ٹھیٹھ پنجابی کے نعرے ہوتے تھے جن کا ذکر مضمون میں کرنا اب مناسب بھی معلوم نہیں ہوتا مگر ان نعروں میں پنجاب کے دیہاتی کلچر کا بھرپور اظہار ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۱۱ء

فرانسیسی صدر کی طرف سے اسلام کے کردار پر عمومی بحث کی تجویز

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے تجویز پیش کی ہے کہ فرانسیسی معاشرے میں اسلام کے کردار پر ۵ اپریل سے عمومی بحث کا آغاز کیا جائے، ان کا خیال ہے کہ ’’فرانسیسی سوسائٹی میں اسلام کا رول کیا ہے؟‘‘ اس موضوع پر بحث کا اہتمام ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس بحث کا فوکس صرف اسلام ہوگا اور اگر اس کا مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے تو میں اس کی مخالفت کروں گا۔ سہ روزہ دعوت دہلی کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں اس وقت مسلمانوں کے حوالے سے جن مسائل پر گفتگو ہو رہی ہے ان میں مسلم خواتین کا حجاب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۱ء

مولانا فضل الرحمان پر حملے ، استعمار کی سازش!

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کو نشانہ بنانے کے لیے مسلسل دو خودکش حملے ملک بھر کے دینی کارکنوں اور محب وطن عناصر کے لیے باعث تشویش و اضطراب ہیں اور ان حملوں میں دو درجن کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر سینے میں دل رکھنے والا ہر شخص غمزدہ ہے۔ ابھی تھوڑی دیر قبل فون پر میں نے مولانا موصوف سے اس سانحہ پر تعزیت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی ہے اور شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان کی حفاظت کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا کی ہے، اللہ تعالٰی قبول فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۲۰۱۱ء

انسانی حقوق کے نام پر شریعت مخالف سیکولر مہم

لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اس کی تعمیر کے بعد خطابت کا آغاز خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے فرمایا تھا اور کچھ عرصہ جمعۃ المبارک کے خطبات ارشاد فرمانے کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنے خصوصی شاگرد حضرت مولانا عبدا لحنان ہزارویؒ کو خطیب مقرر کر دیا تھا جو طویل عرصے تک خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اب کم و بیش ربع صدی سے ہمارے محترم دوست مولانا عبد الرؤف ملک اس مسجد کے خطیب ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۱۱ء

حمید اختر صاحب! حقائق کو تو مسخ نہ کریں

کوئی دانشور حالات کی ترتیب اور معروضی حقائق سے اس قدر بھی بے خبر ہو سکتا ہے، روزنامہ ایکسپریس میں ۸ فروری کو محترم جناب حمید اختر صاحب کا ’’پرسش احوال‘‘ کے عنوان سے کالم پڑھنے سے قبل مجھے اس بات کا اندازہ نہ تھا۔ حمید اختر صاحب پرانے دانشوروں سے ہیں، ان کا تعلق لیفٹ سے ہے اور وہ بائیں بازو کے پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن اس کالم میں انہوں نے حالات سے باخبر ہونے کے حوالے سے بہت مایوس کیا ہے۔ پہلے ان کا ارشاد ملاحظہ فرما لیجئے پھر اس پر ہم کچھ گزارشات پیش کریں گے، وہ لکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۱۱ء

مسلمانوں کا قرآن و سنت سے تعلق اور مغرب کا مطالبہ

دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا میں کافی عرصے کے بعد حاضری کا اتفاق ہوا، حضرت مولانا منظور الحق صاحبؒ اور حضرت مولانا عبد الخالق صاحبؒ کی زیارت تو مجھے یاد نہیں البتہ حضرت مولانا علی محمدؒ کی خدمت میں حاضری اور دعاؤں کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے۔ مولانا محمد انورؒ میرے دوستوں اور بے تکلف ساتھیوں میں سے تھے، جماعتی اور تحریکی زندگی میں ان کے ساتھ ایک عرصہ رفاقت رہی ہے۔ حضرت مولانا ارشاد احمد زید مجدہم میرے دعاگو بزرگوں میں سے ہیں، ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۱۱ء

تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں مجوزہ ترامیم ۔ آل پارٹیز کانفرنس لاہور کے مطالبات

لاہور میں کل جماعتی کانفرنس اور عوامی ریلی کے بعد تحریک تحفظ ناموس رسالت کے راہنما اب شاید پشاور کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور فروری کے تیسرے ہفتہ کے دوران پشاور میں کل جماعتی کانفرنس اور عوامی ریلی کا پروگرام تشکیل پا رہا ہے۔ منصورہ لاہور میں ۲۹ جنوری کو منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں پاکستان شریعت کونسل کے دیگر راہنماؤں مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور حافظ ذکاء الرحمان اختر کے ہمراہ مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور مختلف جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ملاقات کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۱ء

مشترکہ ملی و قومی جدوجہد کی ضرورت اور جناب آیت اللہ خامنہ ای کا فتوٰی

برف دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے اور دینی حلقوں میں باہمی رابطہ و مفاہمت کے ساتھ مشترکہ ملی و دینی مقاصد کے لیے متفقہ موقف اور جدوجہد کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ میں گزشتہ دنوں کراچی میں تھا اور متعدد احباب سے اس سلسلہ میں ملاقاتیں ہوئیں۔ جمعیۃ علماء پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی طلب کردہ کل جماعتی کانفرنس، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں ہونے والا اجتماع اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا اسد اللہ بھٹو کے طلب کردہ سیمینار میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ دسمبر ۲۰۱۰ء

انسدادِ توہینِ رسالت کا قانون اور مسیحی راہنماؤں کا نقطۂ نظر

سلمان تاثیر کے قتل پر ملک بھر میں جس ردعمل کا اظہار ہوا ہے اس سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلم امہ اور خاص طور پر پاکستان کے غیور مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو کسی قسم کی لچک اور نرمی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور اس مسئلہ پر مسلمانوں کا جذباتی ہونا جو مغرب کے نزدیک قابل اعتراض بات ہے مسلمانوں کی ایمانی جرأت اور دینی حمیت کے اظہار کی علامت بن گیا ہے۔ مغرب کا المیہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی ہر قوم کو اور ہر بات کو اپنے ماحول اور ذہنی دائروں میں پرکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۱ء

بائبل کی پکار ۔ من چہ گویم و طنبورہ من چہ سراید

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کر دیا جائے کیونکہ یہ ان کے بقول اقلیتوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے اور بطور خاص مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔ ہم اس کالم میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ اول تو اس قانون کے غلط استعمال کی بات اس حوالہ سے محل نظر ہے کہ غلط استعمال کی بات صرف اس قانون کے حوالہ سے کیوں کی جا رہی ہے؟ ملک میں دیگر بہت سے قوانین کا بھی تو غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۱۱ء

ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر کو یومِ ختم نبوت تھا، بحمد اللہ تعالٰی دونوں دن خاصی مصروف رہی۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہمارے قومی فرائض میں سے ہے اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع بھی اہم ترین ملی تقاضا ہے چنانچہ ملک بھر میں دونوں حوالوں سے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا گیا جس میں تھوڑا بہت ہمارا حصہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۱۸ء

وزیر اعظم سے مجوزہ ملاقات۔ ایک ضروری وضاحت

وزیراعظم جناب عمران خان کے ساتھ مجوزہ ملاقات اور ہماری معذرت کے بارے میں مختلف تبصرے مسلسل سامنے آرہے ہیں، بہت سے دوست اس معذرت سے اتفاق کر رہے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جن کا کہنا ہے کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ دونوں طرف مخلصین ہیں جو پورے اخلاص کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں اور دلائل و قرائن بھی کسی کے کمزور نہیں ہیں مگر چونکہ سوالات کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو صورتحال رونما ہوئی وہ قارئین کے سامنے رکھ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ ستمبر ۲۰۱۸ء

مولانا جلال الدین حقانیؒ

مولانا جلال الدین حقانیؒ کی وفات کی خبر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی گہرے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اس کے ساتھ ہی جہادِ افغانستان کے مختلف مراحل نگاہوں کے سامنے گھوم گئے ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانیؒ جہاد افغانستان کے ان معماروں میں سے تھے جنہوں نے انتہائی صبر و حوصلہ اور عزم و استقامت کے ساتھ نہ صرف افغان قوم کو سوویت یونین کی مسلح جارحیت کے خلاف صف آرا کیا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے افغان جہاد میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں اور مجاہدین کی سرپرستی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۸ء

قادیانیوں کی پاکستان کے لیے ’’خدمات‘‘

وزیراعظم عمران خان نے ملک کے اقتصادی و معاشی معاملات کے حوالہ سے جو ایڈوائزری کونسل قائم کی ہے اس میں عاطف میاں کی شمولیت پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ وہ مبینہ طور پر قادیانی ہیں اور مرزا قادیانی کے خاندان کے ساتھ ان کا تعلق بھی بتایا جاتا ہے، اس لیے اس کونسل میں ان کی شمولیت درست نہیں ہے اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کا نام کونسل سے خارج کر دیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مذہبی انتہا پسندی کا بے جا اظہار ہے اور مطالبہ کرنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

سہ ماہی تعطیلات کی سرگرمیاں

صفر کے پہلے پیر کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا سہ ماہی امتحان ہوتا ہے، یہ ایک دن کا تقریری امتحان ہوتا ہے اور اس سے قبل طلبہ کا دو دن کا تیاری کے لیے تقاضا ہوتا ہے جبکہ امتحان کے بعد تین چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح مجھے اس ہفتہ کے دوران چند روز گھومنے پھرنے کے لیے مل جاتے ہیں اور میں ان سے بھرپور استفادے کی کوشش کرتا ہوں۔ انہی دنوں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا کراچی میں اجلاس تھا جس کے لیے دعوت نامہ موصول ہو چکا تھا اور برادرم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر بھی تاکید کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۱۰ء

حلال و حرام کا اسلامی تصور اور سوسائٹی کی خواہشات

سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال ہی میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت دینے کا مشورہ دیا ہے اور اپنے اس مشورہ کو اس مسئلہ کا حل قرار دیا ہے کہ بے شمار قوانین کے باوجود جسم فروشی کے کاروبار میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ دو فاضل ججوں پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ: ’’دنیا بھر میں کہیں بھی اور کوئی بھی قانون اس کاروبار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے اور یہ کہ اس کو قانونی درجہ دے دیے جانے سے اتھارٹیز کو اس کاروبار کی نگرانی کرنے، اس کے ملوثین کی آبادکاری اور طبی امداد فراہم کرنے کا حق و اختیار حاصل ہو جائے گا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۰ء

قومی خودمختاری کا تحفظ ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

گزشتہ اتوار کو لاہور میں ملی مجلس شرعی کے زیر اہتمام مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے راہنماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جو اس لحاظ سے بھرپور اور نمائندہ تھا کہ تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علماء کرام نے اس میں شرکت کی اور ریٹائرڈ جنرل حمید گل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل راجہ ذوالقرنین اور صحافی برادری کی دو سرکردہ شخصیات چودھری اصغر علی وڑائچ اور جناب سلمان غنی بھی شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۱۰ء

موجودہ حالات اور جنرل حمید گل

دو روز قبل جنرل (ر) حمید گل صاحب نے فون پر مجھے کہا کہ ۸ دسمبر کو راولپنڈی میں کچھ حضرات کو ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالہ سے جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے جس میں آپ کی آمد بھی ضروری ہے۔ میرا خیال تھا کہ کوئی محدود سطح کا مشاورتی اجلاس ہوگا لیکن میں جب ۳ بجے کے لگ بھگ راولپنڈی صدر کے فلیش مین ہوٹل کے مین ہال میں داخل ہوا تو وہاں ایک اچھے خاصے قومی سیمینار کا سماں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۰۹ء

دینی جدوجہد کی معروضی صورتحال کی بحث

دینی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں معروضی صورتحال کے حوالے سے ان کالموں میں گفتگو کر رہا ہوں، اس میں ماضی کے تجربات کا تذکرہ بھی ہوتا ہے اور مستقبل کے امکانات اور ضروریات کا جائزہ بھی اس کا حصہ ہے۔ اس پس منظر میں حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب نے ایک مضمون میں مجھ سے تقاضا کیا کہ دوسرے حضرات کو توجہ دلانے کی بجائے خود اس سمت پر پیشرفت کیوں نہیں کرتا؟ اس کے جواب میں ایک قدرے تفصیلی مضمون میں راقم الحروف نے ان اسباب کا تذکرہ کیا جو اس بارے میں میری عملی پیشرفت میں حائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۱۰ء

دینی جدوجہد ۔ ضرورت اور تقاضے

ہمارے محترم دوست حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب (مدیر ماہنامہ فقاہت لاہور) نے روزنامہ اسلام میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں راقم الحروف کی ان گزارشات کو موضوع بحث بنایا ہے جن میں کچھ عرصہ سے مسلسل یہ عرض کر رہا ہوں کہ قومی سیاست میں دینی نمائندگی اور ہمارے تحریکی ماضی کے تسلسل کا خلا دن بدن گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے اس خلا کو پر کرنے اور تحریکی تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے کسی نہ کسی کو آگے بڑھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ و ۶ دسمبر ۲۰۰۹ء

نیدرلینڈز کے مجوزہ گستاخانہ خاکوں کے پروگرام کی منسوخی

مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا ہے اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کی ریلی کے اسلام آباد پہنچنے پر تحریک کے راہنما پیر محمد افضل قادری کو مذاکرات میں بتایا ہے کہ ہالینڈ کے وزیرخارجہ نے انہیں فون پر اطلاع کی ہے کہ یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۲۰۱۸ء

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی جدوجہد کے دو اہم پہلو

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں ۳۰ اکتوبر کو خانیوال میں سیمینار منعقد ہو رہا ہے جس میں مولانا فضل الرحمان مہمان خصوصی ہوں گے اور مختلف ارباب فکر و دانش حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مفتی صاحبؒ کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اس سیمینار کا اہتمام جناب اکرام القادری اور ان کے رفقاء کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو ہمارے پرانے دوستوں میں سے ہیں اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے دور میں جمعیۃ علماء اسلام کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے سالہا سال تک مدیر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۰۹ء

ایک اور ’’دینِ الٰہی‘‘؟

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء کی رپورٹ کے مطابق حکمران پارٹی کی سربراہ بیگم بے نظیر بھٹو نے لاہور ایئرپورٹ پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے شریعت بل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ: ’’ہم ایسا اسلام چاہتے ہیں جو واقعی اللہ کی ہدایات کے مطابق ہو۔ پوری دنیا اللہ کی ہے۔ عوام اللہ کے نمائندے ہیں۔ منتخب پارلیمنٹ اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھیں گے۔ ہم انسانوں کے کان یا ہاتھ کاٹنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۱۹۹۰ء

ایران کے اہل سنت علماء کی حالت زار

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۷ مارچ ۱۹۹۶ء کے مطابق ایران کے دو سُنی علماء مولانا عبد المالک اور مولانا عبد الناصر، جو کراچی میں گزشتہ آٹھ برس سے جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، قتل کر دیے گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے قاتلوں کا پتہ نہیں چل سکا اور ان کی لاشیں تدفین کے لیے ایران روانہ کر دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۶ء

گلگت بلتستان صوبہ ۔ چند سنجیدہ خدشات و تحفظات

بلتستان کے مطالعاتی دورے کے بارے میں کچھ گزارشات ایک گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ یہ علاقہ سنی شیعہ کشیدگی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ گلگت بلتستان کے جس خطے کو ایک الگ صوبائی یونٹ کی حیثیت دی گئی ہے اس میں اہل سنت کی مجموعی آبادی ۲۷ فیصد بیان کی جاتی ہے، ان میں اکثریت علماء دیوبند سے متعلق ہے، کچھ اہل حدیث حضرات بھی ہیں اور اب خال خال لوگ بریلوی مکتب فکر کے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ اہل تشیع میں اثنا عشریوں کے علاوہ اسماعیلیوں اور نور بخشیوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۲۰۰۹ء

موجودہ حالات اور تحفظ ختم نبوت کا محاذ

ماہِ رواں کی پانچ تاریخ کو مجلسِ احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا ایک مشترکہ اجلاس متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کی دعوت پر امیر احرار پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، پاکستان شریعت کونسل، خاکسار تحریک، مجلس احرار اسلام، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، ملت اسلامیہ پاکستان اور دیگر جماعتوں کے ذمہ دار حضرات نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۹ء

نیدرلینڈز کے گستاخانہ خاکے، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم

سینٹ آف پاکستان نے ناموس رسالتؐ کے حوالہ سے ہالینڈ (نیدرلینڈز) میں دس نومبر کو منعقد کی جانے والی گستاخانہ خاکوں کی مجوزہ نمائش کی مذمت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے اور معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کے عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی، عوام کی بڑی تعداد کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنا پیار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۲۰۱۸ء

اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟

روزنامہ جنگ لاہور نے پی پی آئی کے حوالہ سے ۷ نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں یہ خبر شائع کی ہے کہ: ’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی نے حکومت سے زنا حدود آرڈیننس فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس کسی بھی طرح خواتین کے ساتھ زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۸۹ء

گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

ہم اس سے قبل ان کالموں میں گلگت اور دیگر شمالی علاقہ جات کو نیا صوبہ بنانے کا منصوبہ پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور ہمارے نقطۂ نظر سے پاکستان، چین، بھارت، روس اور افغانستان کی سرحدوں کے درمیان اس نازک اور حساس خطہ کو الگ صوبہ کی حیثیت دینا کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۱۹۸۸ء

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی ۔ پروگرام اور عزائم

گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نام سے پرائیویٹ اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ جو کچھ عرصہ پہلے تک محض ایک خواب نظر آتا تھا اب جمعیۃ اہل السنۃ کے باہمت راہنماؤں کی مسلسل محنت اور تگ و دو کے نتیجہ میں زندہ حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے اور ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے لیے نہ صرف جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ سے لاہور کی جانب اٹاوہ کے پاس دو سو ساٹھ کنال جگہ حاصل کر لی گئی ہے بلکہ اس پر تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۰ء

شریعت بل اور شریعت کورٹ ۔ قومی اسمبلی کی نازک ترین ذمہ داری

سینٹ آف پاکستان نے مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کم و بیش پانچ سال کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ شریعت بل ۱۹۸۵ء میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے سامنے رکھا گیا تھا، اسے عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کے علاوہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں نے اس پر طویل غور و خوض کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھی اسے بھجوایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۰ء

خلیج کا آتش فشاں

کویت پر عراق کے جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج کی آمد سے یہ خطہ ایک ایسے آتش فشاں کا روپ اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور خلیج میں پیدا ہو جانے والی خوفناک کشیدگی کے حوالہ سے دنیا پر تیسری عالمگیر جنگ کے خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۰ء

دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں

عید الاضحٰی کے موقع پر دینی مدارس کے لیے قربانی کی کھالوں کا مسئلہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی کا میدان بنا رہا اور مختلف مقامات پر گرفتاریوں، مقدمات اور چھاپوں کا سلسلہ رہا۔ جبکہ کھالیں جمع کرنے کی اجازت کے بارے میں انتظامیہ کا رویہ بھی حوصلہ افزا اور آبرومندانہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۱۸ء

Pages