مقالات و مضامین

وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جج جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نافذ قوانین کا اسلامی تعلیمات سے کوئی ٹکراؤ نہیں اس لیے وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘

دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۶ مئی کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں بھرپور ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کرکے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس معاشرے میں دینی تعلیمات کے فروغ اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے اپنے مشن پر آج بھی کاربند ہیں اور وہ اپنے کردار اور جدوجہد کا پوری طرح شعور رکھتے ہوئے اپنے عظیم اسلام کی جدوجہد کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

تحریک آزادیٔ کشمیر اور آزادکشمیر کا عدالتی نظام

۲۱ ستمبر کو تراڑکھل آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہوا جہاں علماء کرام کے علاقائی فورم تنظیم اہل السنۃ والجماعۃ کا سالانہ اجتماع تھا جس کے لیے مولانا شبیر احمد ایک سال سے میرے تعاقب میں تھے۔ اس علاقہ میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء کی خاصی تعداد ہے جس کی مناسبت سے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سال میں ایک دو بار وہاں ضروری حاضر دوں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ اس سفر میں عزیزم حافظ محمد حذیفہ خان سواتی فاضل نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بھی ساتھ تھا جو میرا نواسہ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا پوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۲۰۱۶ء

قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات

گوانتاناموبے میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کا دائرہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ قرآن کریم کی بے حرمتی کا یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے دیگر واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور گوانتاناموبے میں مسلم قیدیوں کے سامنے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کے واقعات امریکی فوجیوں کا معمول بن گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

تبلیغی حلقوں میں اختلاف اور ہمارا طرز عمل

تبلیغی جماعت دعوتِ اسلام کی عالمی تحریک ہے جو دنیا بھر میں دینی تعلیمات و روایات کی طرف مسلمانوں کی واپسی کے لیے ہر سطح پر محنت کر رہی ہے اور اس کی کاوش و برکت سے بحمد اللہ تعالٰی ہر جگہ دینی معمولات اور ماحول کے مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ مگر جوں جوں اس محنت میں توسیع اور پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اسی حساب سے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں جو فطری امر ہے اور کسی بھی تحریک کے اس درجہ وسعت اختیار کرنے کی صورت میں عموماً ایسے ہو جایا کرتا ہے، البتہ اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط اور مثبت رویہ کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۱۸ء

این جی اوز کا مطالبہ

حکومت پاکستان نے بعض اخباری اطلاعات کے مطابق این جی اوز (نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز) کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور سرکاری حلقوں کے بقول اسلام اور پاکستان کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں عوام کی خدمت کے عنوان سے کام کرتی ہیں، انہیں بین الاقوامی ادارے اس نام سے خطیر رقم فراہم کرتے ہیں اور پاکستان میں ایسی تنظیموں کی تعداد ہزاروں میں بیان کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۱۹۹۹ء

مسلم پرسنل لاء: مولانا محی الدین خان کی فکر انگیز باتیں

۱۷ اگست ۱۹۹۹ء کو ایسٹ لندن میں واقع دارالامہ میں ورلڈ اسلامک فورم کی ایک فکری نشست میں ڈھاکہ کے بزرگ عالم دین مولانا محی الدین خان مہمان خصوصی تھے اور نشست کا عنوان تھا ’’مغربی ممالک میں مسلم پرسنل لاء کی اہمیت‘‘ ۔ نشست کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی جبکہ مولانا منظور احمد چنیوٹی، حافظ عبد الرشید ارشد اور دیگر مقررین کے علاوہ راقم الحروف نے بھی گزارشات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر امریکی ردعمل

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر امریکہ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن یا طالبان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو پاکستان میں امریکی باشندے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس پر برطانیہ نے مولانا موصوف کو ویزا دینے سے معذرت کر دی ہے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ کے ذمہ دار حضرات نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے ان سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

مسلم خاتون کا آئیڈیل!

روزنامہ جنگ لندن نے ۱۸ اگست ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں مسلم لیگ برطانیہ کی شعبہ خواتین کی ایک راہنما بیگم عشرت اشرف کا بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی وزیر مملکت بیگم تہمینہ دولتانہ نے واشنگٹن میں پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی سفارت خانہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی سابق خاتون وزیراعظم مسز گولڈ امیئر کو اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

آزادکشمیر سازشوں کی زد میں

آزاد کشمیر کے صدارتی انتخابات میں عوام دوست اور دیندار شخصیت سردار محمد عبد القیوم خان کی کامیابی سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں مسرت و انبساط کی لہر دوڑ گئی تھی اور اب ان کی اسلامی اصلاحات بہتر مستقبل کی طرف غمازی کر رہی ہیں۔ لیکن دینی حلقوں کی مسرت کے ساتھ ہی ساتھ دین دشمن عناصر نے بھی آزادکشمیر کے نیک دل صدر کے اقدامات کو ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بزعم خویش انتہائی کامیابی سے سازشوں کے جال بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

حالات و واقعات

ایک اخباری اطلاع کے مطابق گورنر پنجاب کی ہدایت پر صوبائی محکمہ تعلیم نے تعلیمی اداروں میں ہیپی فیشن بال رکھنے اور نامناسب لباس پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس ہدایت کی پابندی نہ کرنے والے طلباء کو جرمانوں کی سزا دی جائے گی۔ بدقسمتی سے مغرب کی تقلید کا رجحان ہم پر اس قدر جم چکا ہے کہ وہاں کسی کونے میں کوئی نئی بات شروع ہو، خواہ اس سے انسانی اقدار و روایات ہی کیوں نہ پامال ہوتی ہوں، ہمارا معاشرہ اسے قبول کرنے میں حد سے زیادہ فراخدلی سے کام لیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۱۹۷۱ء

حالات و واقعات

ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ لاہور جو کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد حنیف رامے کی زیرادارت سوشلزم کی منادی کیا کرتا تھا، آج کل رامے صاحب کی سرکاری مصروفیات کے باعث ایک اور صاحب کی ادارت میں عریانی کو سندِ جواز فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ’’نصرت‘‘ کے ۱۲ مئی کے شمارہ میں سیدنا حضرت آدم و حوا علیہم السلام کی بالکل عریاں تصاویر کی اشاعت اور ایک غیر معروف مسلم ریاست عجمان کی ڈاک ٹکٹوں کے حوالے سے عریانی کے جواز پر بحث اس قدر حیا سوز ہے کہ ارباب ’’نصرت‘‘ کی شرم و حیا کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۱۹۷۴ء

اور جنرل یحیٰی خان؟

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

قبرص کا بحران!

قبرص کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں بین الاقوامی استعمار نے عالم اسلام کو الجھائے رکھنے کے لیے جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ کئی بار مسلح تصادم کا باعث بنا ہے اور آج بھی اس کے باعث ترکی اور یونان کے درمیان مسلح جنگ کے خطرات شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ قبرص بحیرہ روم کا ایک بڑا جزیرہ ہے جہاں یونانی عیسائی اور ترک مسلمان آباد ہیں۔ عیسائی اکثریت میں ہیں،مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کے درمیان چپقلش مدت سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

مسئلہ کشمیر نئے دور میں!

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی تجویز پر جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود نے قوم کو خبردار کیا تھا کہ اس سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گا اور یہ تجویز عملاً مسئلہ کشمیر کو دفن کر دینے کے مترادف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

متحدہ جمہوری محاذ کی تنظیم نو

متحدہ جمہوری محاذ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق ماتحت شاخوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ۲۰ اگست تک ضلع اور شہر کی سطح پر تنظیم نو مکمل کر لیں تاکہ محاذ نئے سرے سے اپنی جدوجہد کو منظم کر سکے۔ متحدہ جمہوری محاذ موجودہ حکومت کے واضح غیر آئینی، آمرانہ اور جمہوریت کش اقدامات کے پیش نظر جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے قائم ہوا تھا اور اب تک اپنی بساط کے مطابق اس میدان میں مصروف جہد و عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۷۴ء

امریکی صدر نکسن سے استعفٰی کا مطالبہ

واٹر گیٹ اسکینڈل کے سلسلہ میں غلط بیانی کے اعتراف کے ساتھ ہی امریکہ کے صدر نکسن کو امریکہ کے قومی حلقوں حتیٰ کہ خود اپنی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے استعفیٰ کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے اور سیاسی حلقوں کے مطابق اب مسٹر نکسن کے لیے استعفیٰ کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن کا قصور یہ ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کے کچھ ذمہ دار شہریوں کے فون خفیہ طور پر ٹیپ کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۷۴ء

جناب وزیر اعظم! تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے میں قومی اسمبلی کے ارکان سے کہوں گا کہ وہ سات ستمبر تک اس مسئلہ کا کوئی حل طے کر لیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ۷ ستمبر تک مہلت بھی تاخیر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، ہمیں بھٹو صاحب کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۷۴ء

ملک محمد اختر صاحب! مذہب سے چڑ کیوں؟

روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور جناب ملک محمد اختر نے ارشاد فرمایا ہے کہ عوامی نمائندگی کے بل کے تحت برادری سسٹم، ذات پات، علاقائی عصبیت اور مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کو جرم قرار دے دیا جائے گا جس کی سزا تین سال تک قید ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

جمعیۃ کا دور حکومت اور خان محمد حنیف خان کا ارشاد

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘ معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

زندہ باد مولانا محمد زکریا!

کراچی کے مردِ حر مولانا محمد زکریا نے، جو جمعیۃ علماء اسلام کراچی سنٹر کے امیر ہیں، حالیہ الیکشن اور اس کے بعد تحریک میں جرأت و استقامت کی جو شاندار روایات قائم کی ہیں ان پر بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ مولانا محمد زکریا نے قومی اسمبلی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے عبد الحفیظ پیرزادہ کا مقابلہ کیا اور پیرزادہ غنڈہ گردی اور دھاندلیوں کی انتہا کو چھونے کے باوجود الیکشن میں مولانا محمد زکریا کو شکست نہ دے سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

آئین کا تقاضہ ‒ گھر کا بھیدی ‒ گولی کی زبان

قومی اتحاد نے صدر مملکت جناب فضل الٰہی چودھری کے نام ایک خط میں استدعا کی کہ وہ قومی اسمبلی کے الیکشن کرانے کا اہتمام کریں جس کے جواب میں صدر مملکت نے ارشاد فرمایا ہے کہ دوبارہ الیکشن کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے اور میں نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

بیرون ملک جانے کا جنون ‒ حلال کی کمائی

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی ایک خبر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تقریباً ایک درجن ایسی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو پاکستانیوں کو بوگس ویزوں پر بیرون ملک بھجوانے کا مذموم کاروبار کرتی ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل حکومت مغربی جرمنی نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ایک سو چار پاکستانیوں کو واپس بھجوایا تھا جو غیر قانونی طور پر انہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے وہاں پہنچے تھے اور یہ واقعہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا باعث بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ

امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پاکستان کے اقدامات کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے جبکہ دوسری طرف موصوف نے دہلی کے دورہ کے موقع پر پر بھارت کی طرف سے ایٹمی تحفظات فراہم کرنے سے انکار کے باوجود بھارت کو امریکہ کی طرف سے ایٹمی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

خان عبد الولی خان اور پنجاب

ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری ظہور الٰہی نے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا ولی خان کو پنجاب قومی قائد کی حیثیت سے قبول کر لے گا؟‘‘ کہا کہ ’’مسٹر ولی خان کو بھٹو نے گرفتار ہی ان کے پنجاب کے کامیاب ترین دورے کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پرستوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پنجاب ولی خان کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ولی خان کو ایک عظیم محب وطن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ قومی لیڈر کی حیثیت سے وہ پنجاب کو کیوں قابل قبول نہیں ہوں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

حنیف رامے صاحب کی نئی تجویز

مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر جناب محمد حنیف رامے نے بزعم خویش ملک کے مسائل کا یہ حل پیش کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر غیر جماعتی پارلیمانی نظام رائج کیا جائے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ تجویز پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اس کا واقعاتی پس منظر کیا ہے، ہم جناب رامے صاحب سے یہ عرض کریں گے کہ جناب اس ملک میں طویل نظریاتی و عملی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں آپ معاشرہ سے ان جماعتوں کو کس طرح بے دخل کر سکیں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹیں اور جنرل محمد ضیاء الحق کا عزم

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں قومی سیرت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت اسلامی نظام کی ترویج کے ضمن میں ذمہ داریوں سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہوگی اور اس راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

قومی تعلیمی پالیسی ‒ ایک نئی ملکۂ ترنم

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے مشیر برائے تعلیم محمد علی ہوتی نے گزشتہ روز پی پی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی کا جلد اعلان کر دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں تجاویز کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ عبوری حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں تو اس کے سامنے آنے کے بعد ہی کچھ عرض کیا جا سکے گا لیکن اس ضمن میں ہم یہ عرض کرنا اور اس امر کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتے ہیں کہ تعلیمی مسائل کے سلسلہ میں پالیسی کے لیے تجاویز پر غور و خوض کرنے کی غرض سے گزشتہ دنوں جو کانفرنس منعقد ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

پاکستانی محنت کش اور متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ

رائٹر کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حصول روزگار کے لیے آنے والے محنت کشوں کے لیے جو نیا قانون بنایا ہے اس کی رو سے ان تمام افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا جن کے پاسپورٹوں پر لکھے ہوئے پیشے اور ملازمت کے ویزوں میں درج شدہ پیشوں میں مطابقت نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

ہفت روزہ اسلامی جمہوریہ اور روزنامہ نوائے وقت

لاہور کے مؤقر ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک ہندو مصنف ایم او متھائی کی کتاب آج کل صحافتی حلقوں میں زیربحث ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ پر شراب نوشی اور شراب کے نشے میں ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ لکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے کردار کے بارے میں کوئی منفی بات کہی گئی ہے ورنہ اس سے قبل مولانا آزادؒ کے سیاسی نظریات و افکار اور طرزعمل سے شدید ترین اختلاف رکھنے والوں نے بھی ان کی علم و ذہانت او پختگی کردار کا اعتراف کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

اصلاحی کمیٹیاں ‒ بھوک ہڑتال

اس وقت ملک میں محلہ وار اور دیہہ وار اصلاحی کمیٹیوں کی تشکیل کا کام زوروں پر ہے اور ہر ضلع میں انتظامیہ ایسے افراد کی فہرستوں کو آخری شکل دینے میں مصروف ہے جن پر مشتمل اصلاحی کمیٹیاں اصلاحِ احوال و نظام کا کاروبار سنبھالنے والی ہیں۔ کمیٹیوں کے قیام میں جس قدر اہتمام سے کام لیا جا رہا ہے اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت لوکل سطح پر لوگوں کے مسائل کا حل اور مفاد عامہ سے متعلق امور کی نگرانی ان کمیٹیوں کے سپرد کرنا چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

اسرائیل کی تازہ جارحیت

لبنان میں ابھی خانہ جنگی کے زخم بھرنے نہ پائے تھے کہ اسرائیل نے اسے جارحیت کی زد میں لے لیا ہے اور تا دمِ تحریر وہ لبنان میں مسلح کاروائیوں میں مصروف ہے۔ اسرائیل کو شکایت ہے کہ فلسطینی حریت پسند اسرائیل کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں لبنان سے کر رہے ہیں اور ان آزادی خواہ مجاہدین کے حملوں سے بچنے کے لیے وہ ضروری سمجھتا ہے کہ لبنان میں فلسطینی حریت پسندوں کے ٹھکانوں پر قبضہ کر لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

اے ایف پی کے مطابق دنیا کا سب سے پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ جولائی میں جنوبی انگلستان کے شہر اولڈم میں پیدا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق انسانی بیضے کی رحم مادر سے باہر پرورش کا یہ تجربہ دو ڈاکٹروں نے انجام دیا ہے جس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی مصنوعی نسل کشی کا کامیاب تجربہ کرنے والا انسانی ذہن اب نسل انسانی کو مصنوعی نسل کشی کے تجربات سے گزارنے کے درپے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

کشمیر کا مسئلہ اور بھارتی وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی کی دھمکی

بھارتی وزیرخارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپائی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں فضول باتیں کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کشمیر کے حق خود ارادیت کی بات کر کے آگ سے کھیل رہا ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اقوام متحدہ نوآبادیوں کی فہرست سے کشمیر کا نام خارج کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

عائلی قوانین کا مسئلہ ‒ جلیل القدر پیغمبرؑ کے خلاف ہرزہ سرائی

بعض اخباری خبروں کے مطابق وفاقی مجلس شوریٰ کی بعض خواتین ارکان نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے مطالبہ کیا ہے کہ عائلی قوانین کے سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قبول نہ کیا جائے اور صدر نے خواتین کے اس مطالبہ کو پذیرائی بھی بخشی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۱۹۸۲ء

روسی جارحیت اور انتخابات

وزیرداخلہ جناب محمود ہارون نے اپنے دورۂ کویت کے دوران کویت کی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کو علاقائی اور اندرونی طور پر درپیش صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور اس ضمن میں یہ بھی فرمایا ہے کہ افغانستان میں روسی جارحیت کے جاری رہنے تک پاکستان میں انتخابات نہیں ہو سکتے اور یہ بھی کہا کہ سیاستدان حکومت کو متفقہ سیاسی لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مارچ ۱۹۸۲ء

اساتذہ کی ہڑتال

پنجاب بھر میں ہزاروں اساتذہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے کچھ دنوں سے ہڑتال کر رکھی ہے اور تا دمِ تحریر حکومت اور اساتذہ کے درمیان مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھتے نظر نہیں آرہے۔ اساتذہ قوم کا وہ اہم طبقہ ہیں جن پر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہے لیکن ان اہم ذمہ داریوں کو سرانجام دینے والے یہ اساتذہ ان مراعات اور سہولتوں سے یکسر محروم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۱۹۸۲ء

اساتذہ کے بعد ڈاکٹرز کی ہڑتال

اساتذہ کی طرح ڈاکٹر بھی معاشرہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اساتذہ پر قوم کی ذہنی صحت کا معیار قائم رکھنے کی ذمہ داری ہے جبکہ ڈاکٹر جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری قبول کیے ہوئے ہیں اور دونوں کے کام چھوڑ دینے کے نتائج کی سنگینی یکساں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۱۹۸۲ء

یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے، احتیاط کیجئے!

مؤقر روزنامہ نوائے وقت نے ۱۳ اپریل کی اشاعت میں اسرائیل کی ’’مسلم آزاری اور امریکہ‘‘ کے عنوان کے تحت اداریہ کا اختتام ان جملوں پر کیا ہے: ’’امریکی قیادت کو احساس کرنا چاہیے کہ وہ اس قوم کے لیے دنیا بھر کی نفرت کیوں کما رہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھانے سے دریغ نہیں کیا تھا۔ امریکہ کی عیسائی آبادی اور اس کی نمائندہ قیادت یہودیوں سے کس خیر کی توقع کر رہی ہے؟‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۱۹۸۲ء

امریکی شرائط کے خلاف قومی کنونشن

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا محمد اجمل خان اور قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق نے اس تجویز کو منظور کر لیا ہے کہ پاکستان کی امداد کے لیے امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی قابلِ اعتراض شرائط کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے رمضان مبارک کے بعد لاہور میں مختلف مکاتبِ فکر کا قومی کنونشن منعقد کیا جائے اور ان شرائط کے خلاف اجتماعی ردِعمل کا اظہار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۱۹۸۷ء

بسنت اور ویلنٹائن ڈے

پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں باری باری بسنت منائی جا رہی ہے اور اس بہانے رقص و سرور، فائرنگ اور بدکاری و بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں صدر پاکستان نے خود شریک ہو کر اس رسم بد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اسے اس انداز میں اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیسے اس وقت قوم کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہو۔ بسنت میں پتنگ بازی کے ساتھ بے حیائی اور حرام کاری کی جو خرافات شامل ہوگئی ہیں ان کے علاوہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہر سال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

امریکہ کے خلاف عالمگیر مظاہرے

گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں مختلف شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور متعدد ممالک کے مجموعی طور پر کروڑوں افراد نے سڑکوں پر آکر امریکی عزائم کے خلاف جذبات کا اظہار کیا، مظاہرین نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے کے لیے عراقی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا چاہتا ہے اور بے گناہ عوام کے خون سے اس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد کی گلوکاراؤں کا احتجاج

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۷ فروری ۲۰۰۳ء کو اے ایف پی کے حوالہ سے پشاور سے خبر دی ہے کہ مختلف رقاصاؤں اور گلوکاراؤں نے صوبہ سرحد میں گانے اور ڈانس پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے جسم فروشی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ۳۰ سالہ گلوکارہ مہ جبین نے کہا کہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس پابندی نے اسے بارہ سال کے بعد دوبارہ جسم فروشی پر مجبور کردیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

مفتی اعظم سعودی عرب کا کلمۂ حق

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۵ فروری ۲۰۰۳ء کے مطابق اس سال حج کے موقع پر منٰی کے میدان میں خطبہ حج ارشاد فرماتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا ہے اور عالم اسلام کو اس طرف ان الفاظ کے ساتھ توجہ دلائی ہے کہ ’’اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو اقتصادی طور پر اپنا غلام رکھنا چاہتی ہیں، یہ قوتیں اسلامی ممالک کی منڈیوں پر اپنا تصرف اور قبضہ چاہتی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان مجبور رہیں اور اپنی اقتصادی ضرورتوں کے لیے صرف انہی کی طرف دیکھتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

عالم اسلام کے ممتاز محقق، دانش ور اور مؤرخ ڈاکٹر محمد حمید اللہ گزشتہ دنوں فلوریڈا (امریکہ) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے تھا اور وہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے معتمد تلامذہ اور رفقاء میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے سیرت نبویؐ کے سیاسی پہلوؤں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالہ سے نمایاں علمی خدمات سرانجام دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘

عراق پر امریکی حملے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، عراق نے اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو معائنہ کے لیے عراق آنے کی اجازت دے دی ہے اور انسپکٹروں نے تفصیلی معائنہ کے بعد رپورٹ دی ہے کہ انہیں ممنوعہ اسلحہ کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن اس کے باوجود امریکہ اور برطانیہ مصر ہیں کہ عراق پر حملہ ہو کر رہے گا۔ ادھر خلیج عرب کے ممالک کی تعاون کونسل نے دوحہ میں ایک اجلاس میں قطر اور دیگر عرب ملکوں سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو عراق پر حملہ کے لیے اڈے فراہم نہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

اسلامی تحریکات اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا خوف

’’آن لائن‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے قومی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلامی تحریکات کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مختلف ممالک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ صدر پیوٹن نے اپنے انٹرویو میں اس خدشہ کا اظہار بھی کیا ہے کہ اسلامی شدت پسند دنیا میں اسلامی خلافت لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوگئی ہے، جمعیۃ علماء اسلام کے اکرم خان درانی نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے، اکرم خان درانی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ تحریک آزادی کے نامور عسکری راہنما فقیر ایپیؒ کے دست راست حاجی گل نوازؒ کے پوتے ہیں جن کی جائیداد ضبط کرکے ان کے مکانات کو اس جرم میں فرنگی حکومت نے بموں سے اڑا دیا تھا کہ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے ہتھیار بکف تھے اور فرنگیوں سے اپنا وطن آزاد کرانے کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

فرانس میں اسکارف کا مسئلہ

فرانس میں ان دنوں اسکارف کا مسئلہ قومی مسائل میں سرفہرست حیثیت اختیار کر چکا ہے اور فرانس کے صدر اور وزیر اعظم کے اعلانات کے مطابق اس مقصد کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جا رہی ہے کہ فرانس میں مسلم خواتین کے لیے سر پر اسکارف لینے کو قانوناً ممنوع قرار دے دیا جائے۔ دوسری طرف سینکڑوں مسلم خواتین نے پیرس میں گزشتہ روز مظاہرہ کیا ہے جس میں اسکارف پر مجوزہ پابندی کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

Pages