تعلیمی نظام اور بین الاقوامی مطالبات
ملک کا تعلیمی نظام اس وقت سہ طرفہ یلغار کی زد میں ہے اور اعلیٰ سطح پر اس سلسلہ میں جو سرگرمیاں نظر آرہی ہیں یا درپردہ جاری ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام و نصاب کا کوئی شعبہ بھی ان تبدیلیوں کے اہداف سے باہر نہیں ہے جو پاکستان کے حوالے سے طے کر لی گئی ہیں اور انہیں روبہ عمل کرنے کے لیے ’’ہوم ورک‘‘ تیزی کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف دینی مدارس کا نظام و نصاب ہے جس میں اصلاح و ترمیم کے لیے مختلف شعبے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حکومتی اعلان کے بغیر جہاد کی شرعی حیثیت
اسلام آباد کے ’’علماء کنونشن‘‘ سے جنرل پرویز مشرف کے خطاب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور قومی اخبارات میں اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ اس کنونشن کے لیے اپنی مرضی کے علماء و مشائخ کو جس انداز سے جمع کیا گیا، اس سے ماضی کی حکومتی روایات بھی مدھم پڑ گئیں، کیونکہ ماضی کی حکومتیں ایسے مواقع پر اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ کانفرنس یا کنونشن میں اس کے ہم خیال حضرات ہی کی اکثریت ہو مگر توازن قائم رکھنے کے لیے مخالفانہ نقطۂ نظر رکھنے والے کچھ حضرات کو بھی موقع دیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ ختم نبوت کے عالمی مورچے اور مولانا فضل الرحمان کا دھرنا
۵ اکتوبر کو دن کا ایک حصہ چناب نگر اور چنیوٹ میں گزارنے کا موقع ملا۔ اسباق سے فارغ ہو کر ظہر تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز چناب نگر پہنچا اور ’’تخصص فی الفقہ‘‘ کی کلاس میں فقہ اسلامی کے عصری تقاضوں اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی فکری ضروریات کے عنوان پر شرکاء کے ساتھ کم و بیش ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ جبکہ عالمی مجلس کے مرکزی راہنما مولانا عزیز الرحمان ثانی کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیالات کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب کے سامنے صرف سپر اندازی کا مشورہ کیوں؟
ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعتراف ’’جرم‘‘ اور صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ان کے لیے ’’معافی‘‘ کے بعد ایٹمی پھیلاؤ کے حوالے سے قیاس آرائیوں نے جو نیا رخ اختیار کر لیا ہے، اس سے ان حضرات کے خدشات کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ جس انداز سے اس معاملہ کو ڈیل کیا گیا ہے، اس سے مسئلہ سمٹنے کے بجائے پھیلاؤ کا زیادہ شکار ہو گیا ہے اور اس کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ ایٹمی پھیلاؤ کے معاملے میں پاکستان کے بعض سائنس دانوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا مسئلہ پاکستان کا داخلی معاملہ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اطاعت امیر درست، مگر کن حالات میں!
صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں علمائے کرام اور مشائخ عظام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بہت سی فکر انگیز باتیں کی ہیں جن پر ہر پاکستانی کو غور کرنا چاہیے، کیونکہ صدر محترم کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کی بہت سے آرا سے ہمیں بھی اختلاف ہے، لیکن اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جن امور کی انہوں نے نشاندہی کی ہے اور جن مسائل کا پاکستان کے حوالے سے انہوں نے اپنے خطاب میں تذکرہ کیا ہے، وہ اس وقت ہمارے لیے چیلنج کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ہر باشعور شہری فکرمند اور پریشان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘
اے پی پی کے مطابق گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے منعقدہ آٹھ روزہ ورکشاپ کے اختتام پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی راہ میں کوئی اندرونی یا بیرونی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں دنیاوی علوم کے فروغ کا مقصد دینی مدارس کے طلبہ کو ملک اور قوم کا ایک کارآمد شہری بنانا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس موقع پر دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری پروگرام کی وضاحت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن حکیم کے ہم پر حقوق
رمضان المبارک گزرتا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اس کی برکتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا مہینہ ہے، اسی لیے اس میں قرآن کریم سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور نماز کے بغیر بھی اس کی عام طور پر تلاوت ہوتی ہے۔ سمجھ کر پڑھنے والے بھی اس کے پڑھنے اور سننے کا حظ اٹھا رہے ہیں اور بغیر سمجھے پڑھنے سننے والے بھی اس کی برکات سے محروم نہیں ہیں۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ کسی اور کتاب کے حافظ موجود نہیں، مگر اس کے حافظوں کی تعداد دنیا میں اس وقت نوے لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایٹمی صلاحیت کا حصول اور عالمی قوتوں کا معاندانہ رویہ
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے ’’رائٹر‘‘ سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام میں مختلف ملکوں کی مدد کرنے والے انڈر ورلڈ گروہ کا سراغ لگانے اور اسے ناکارہ بنانے کے لیے اٹامک ایجنسی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ چند ہفتوں تک اس قابل ہو جائیں گے کہ ایٹمی پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث گروہ اور اس میں شامل افراد کو سامنے لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی کوششیں سخت دباؤ کا شکار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فقہی و قانونی جدوجہد کاایک ناگزیر تقاضہ
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے اخری رسول کی حیثیت سے انسانی معاشرہ کو جن تبدیلیوں اور اصلاحات سے نوازا ان کا دائرہ زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے اور ان سماجی تغیرات و اصلاحات کی سطح صرف دعوت و تلقین کی نہیں تھی بلکہ ان کے مطابق معاشرہ کی ازسرنو تشکیل بھی جناب نبی اکرمؐ نے خود فرما دی۔ چنانچہ جب اللہ تعالٰی کے آخری رسول یہ مشن مکمل کر کے ’’فزت و رب الکعبۃ‘‘ فرماتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے تو آپؐ کی تعلیمات صرف اقوال و ارشادات پر مبنی نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ اسلام کے دستوری اداروں کو درپیش خطرہ !
روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۶ ستمبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے! ’’اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کی طرف سے اداروں کی تشکیل نو کے حوالہ سے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی حیثیت اور ہیئت تبدیل کرنے کی سفارش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کو چیف ایگزیکٹو اور بورڈ آف گورنر کے سپرد کرنا ۱۹۷۳ء کے آئین کی خلاف ورزی ہے، اصلاحات کمیٹی کی سفارش کو واپس لیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چینی زبان کا فروغ اور پاکستانی زبان و ثقافت کا تحفظ
روزنامہ انصاف لاہور ۲۰ فروری ۲۰۱۸ء کی رپورٹ کے مطابق: ’’چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی نے کہا ہے کہ چینی زبان پاکستان اور چین کے کاروباری شعبہ کے مابین سہولت پیدا کر رہی ہے، پاکستانی زبان اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی زبان کو فروغ ملنا چاہیے۔ جبکہ چینی سفیر پاؤچنگ کا کہنا ہے کہ چینی زبان دونوں ممالک کے درمیان گہرے رابطے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ چین خلوص اور وفاداری کے ساتھ معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط پاکستان دیکھ رہا ہے، چینی زبان کے فروغ سے ثقافتی روابط بھی مضبوط ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی سفارت خانہ کی بیت المقدس میں منتقلی کے اعلان کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر کے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیت المقدس ابھی تک متنازعہ علاقہ ہے اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاملات اور قوانین کے منافی ہے۔ فلسطین آج سے سو سال قبل خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا، جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے بہت سے علاقوں کو بھی فاتح اتحادی فوجوں نے قبضہ میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جدوجہد کا نیا دور اور اس کے تقاضے
گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنماؤں مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے ہمراہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات اور اہم ملکی امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ محترم سید سلمان گیلانی، عزیزم حافظ محمد خزیمہ خان سواتی، جناب بلال میر اور حافظ شاہد میر بھی شریک محفل تھے۔ ملک کی عمومی صورتحال کے تناظر میں دینی جد و جہد کے اہم پہلو زیر بحث آئے جن میں نئی حکومت کے بعض اقدامات اور ان کا عوامی ردعمل سامنے رکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پرنس ہیری اور مکھی
روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ مئی کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’لندن (این این آئی) پرنس چارلس کی ۷۰ ویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کے دوران ایک مکھی پرنس ہیری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی نظر آئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس ہیری تقریری کرنے ڈائس پر آئے تو بھن بھن کرتی ایک مکھی نے تقریر کرتے ہوئے شہزادے کو مشکل میں ڈال دیا جس کے باعث ان کا تقریر سے دھیان ہٹ گیا۔ تقریر کے دوران پرنس ہیری اگلا جملہ غلط بول گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکی سفارت خانہ کی القدس منتقلی اور فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد
امریکہ نے بالآخر بیت المقدس شہر میں اپنا سفارت خانہ قائم کر دیا ہے اور فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے تشدد کی تازہ ترین کارروائی بھی اسی روز ہوئی ہے جس دن یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کی باقاعدہ منتقلی ہوئی کہ اس غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقدام پر احتجاج کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بیت المقدس شہر خود اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کے مطابق متنازعہ ہے اور اس کی مستقل حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا ہے، مگر امریکہ نے بین الاقوامی فیصلوں اور عالمی رائے عامہ کو مسترد کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’جنرل مشرف کا دورِ اقتدار: سیاسی، نظریاتی اور آئینی کشمکش کا ایک جائزہ‘‘
جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار اس لحاظ سے منفرد اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے اہداف اور پروگرام کو ڈپلومیسی کی زبان میں لپیٹنے کی حتی الوسع کوشش نہیں کی۔ صحیح یا غلط جو کچھ بھی کیا، کھلے بندوں کیا اور بہت سے معاملات جو ان سے پہلے مصلحتوں کے پردوں میں ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“ کی کیفیت سے دوچار تھے، ان کے دور اقتدار میں اوپن ہو گئے ہیں۔ پاکستانی سیاست کی امریکی مفادات کے ساتھ وابستگی کا آغاز قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعلیمی نظام کی سیکولرائزیشن کا ایجنڈا
۱۵ اپریل کو اسلام آباد میں ایک دوست کے ہاں شام کے کھانے پر کچھ احباب سے ملاقات ہوئی جن میں ایک دوست نے، جو پاک سیکرٹیریٹ میں اہم عہدے پر کام کرتے ہیں، توجہ دلائی کہ ریفرنڈم سے زیادہ اس کے بعد تیزی سے آگے بڑھائے جانے والے ایجنڈے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے لیے ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے، ہدایات آ چکی ہیں اور گرین سگنل مل چکا ہے، اس لیے علمائے کرام اور دینی حلقوں کو اس کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آئی ایم ایف کی چھری اور سرکاری ملازمین کی گردن
صدر مملکت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے سرکاری محکموں کے بالاتر افسران کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ جس سرکاری ملازم کو بدعنوان سمجھیں، جسے منصبی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرنے والا قرار دیں اور جس کے بارے میں ان کی رائے قائم ہو جائے کہ محکمہ کو اس کی ضرورت نہیں رہی، وہ اسے ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔ اور اس برطرفی کے خلاف کسی کورٹ کے پاس داد رسی کے لیے جانے کا کوئی حق اب سرکاری ملازمین کے پاس اس آرڈیننس کی رو سے باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ کی ملاقات
پاکستان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری اور اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شلوم کے درمیان گزشتہ دنوں استنبول میں ہونے والی ملاقات حسب توقع دنیا بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور اس کے حق میں اور خلاف دلائل دیے جا رہے ہیں۔ دنیا کے کوئی بھی دو ملک آپس میں کسی بھی سطح پر رابطہ کر سکتے ہیں اور ان کے درمیان ملاقات و مذاکرات کا اہتمام ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اسرائیل کے بارے میں پاکستان عوام کے جذبات میں شدت و حساسیت پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ریاست مدینہ کی منزل اور نئی حکومت سے عوام کی توقعات
۲۵ جولائی کے انتخابات میں منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے اور وزیر اعظم کے طور پر تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو ملک کا نیا حکمران منتخب کر لیا گیا ہے، جو کرپشن سے پاک پاکستان اور ریاست مدینہ طرز کی رفاہی ریاست کے عزم و اعلان کے ساتھ اپنی حکومت کا آغاز کر رہے ہیں۔ انتخابات میں جو کچھ ہوا اور سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات و اعتراضات کا جو بازار گرم گیا، پھر اپوزیشن کی کم و بیش سبھی پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالہ سے اپنے تحفظات و خدشات کا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مارچ میں ’’سہ روزۂ ختم نبوت‘‘
’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کا سب سے بڑا محاذ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ’’مجلس احرار اسلام پاکستان‘‘ اور ’’انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ‘‘ پوری دل جمعی کے ساتھ اس محاذ پر مسلسل سرگرم عمل ہیں، جبکہ مختلف مذہبی مکاتبِ فکر کی متعدد دیگر جماعتیں بھی اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کی جدوجہد مسلمانوں کے تمام حلقوں اور طبقات کی مشترکہ محنت سے جاری ہے اور اس کے لیے جو بھی کسی دائرہ میں کام کر رہا ہے لائق تحسین ہے اور اس کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہینِ رسالتؐ کی سزا کا قانون اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی
روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ اپریل ۱۹۹۴ء میں شائع ہونے والی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے حوالہ سے (۱) وزیر داخلہ جناب نصیر اللہ بابر (۲) وزیر قانون جناب اقبال حیدر (۳) وزیر امور بہبود آبادی جناب جے سالک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ اور جنرل مشرف سے دو سوال
”حمود الرحمن کمیشن“ کی رپورٹ کا ایک حصہ بالآخر حکومت نے شائع کر دیا ہے اور اس طرح ملک کے عوام کو کم و بیش تیس سال بعد وطن عزیز کے دولخت ہونے اور مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب و عوامل کو براہ راست جاننے اور ان کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ کمیشن سقوط ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی ملک سے علیحدگی کے المناک سانحہ کے بعد اس کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کے لیے سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس حمود الرحمن مرحوم کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں
حرمین شریفین اور حجاج کرام و معتمرین کی مسلسل خدمت کی وجہ سے سعودی عرب پورے عالم اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہے، اور حرمین شریفین کے تقدس و تحفظ کے حوالہ سے سعودی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی و یکجہتی کا اظہار بلاشبہ ہمارے ایمانی تقاضوں میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی دینی و ملی امور میں راہنمائی کے لیے مسلمانوں کا سعودی عرب بالخصوص ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ اور سعودی علماء و مشائخ کی طرف متوجہ رہنا بھی فطری امر ہے، چنانچہ ۱۹۷۴ء کے دوران جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مسئلہ درپیش تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت اور وزیر داخلہ کا اعتراف حقیقت
وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں دارالعلوم کورنگی کراچی میں علماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا حرام ہے لیکن مجبوری کی حالت میں حرام کھانا بھی جائز ہو جایا کرتا ہے۔ اس طرح معین الدین حیدر اپنی تمام تر تلخ نوائی اور دھمکیوں کے باوجود اصولی طور پر ہمارے ساتھ اس موقف میں متفق ہوگئے ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینا مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ریفرنڈم کی دلدل
صدر محمد ایوب خان مرحوم کا ریفرنڈم مجھے یاد نہیں ہے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا، البتہ اتنی سرگرمیاں اس دور کی ذہن کی یادداشت کے خانے میں محفوظ ہیں کہ نئے دستور کے لیے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قیادت میں نظام العلماء پاکستان نے کچھ تجاویز مرتب کی تھیں جنہیں عرضداشت کے طور پر وزارت قانون کو مختلف شہروں سے خطوط کی شکل میں بھجوانے کی مہم جاری تھی اور گکھڑ میں اس پر دستخط کرانے کے لیے میں نے بھی تھوڑا بہت کام کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن فہمی میں حدیث و سنت کی اہمیت
بھیرہ کی جامع مسجد اور بگوی خاندان ہماری علمی و دینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دہلی کی ولی اللہی درسگاہ سے لے کر بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت اور بھیرہ میں حزب الانصار کی تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں تک ایک پوری تاریخ ہے جس کا احاطہ ایک یا دو مضمون نہیں کر سکتے۔ اس دینی مرکز اور علمی خاندان کی سب سے اہم خصوصیت وہ توازن اور اعتدال ہے جو اہل سنت اور حنفی مکتب کے دو بڑے گروہوں دیوبندی اور بریلوی کے درمیان اختلافات کی شدت کے دور میں بھی دونوں کے سرکردہ حضرات کو یکجا کرنے کے اہتمام سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟
مولانا فضل الرحمن نے دورہ بھارت سے واپسی پر بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے گول میز کانفرنس کی کوئی تجویز پیش کی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ”اکھنڈ بھارت“ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی بات کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی اس وضاحت کے بعد ہمارے خیال میں اس حوالہ سے گفتگو کو آگے بڑھانے کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن مسئلہ صرف مولانا فضل الرحمن کا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنرل پرویز مشرف کے بارے میں قادیانیوں کی خوش فہمی
مرزا طاہر احمد اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی صورت میں انہیں ایک ایسا حکمران میسر آگیا ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان کے حوالہ سے اپنے عزائم کی تکمیل کر سکیں گے، اسی لیے مرزا طاہر احمد اور ان کے ساتھ قادیانی جماعت مختلف دائروں میں پہلے سے زیادہ متحرک اور سر گرم دکھائی دے رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مذہبی دہشت گردوں کے خلاف مہم کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں امریکہ اور اس کی قیادت میں عالمی اتحاد کی سرگرمیوں کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہب کا کارڈ اور دینی مدارس کے طلبہ
’’آزادی مارچ‘‘ کے لیے مولانا فضل الرحمان اور جمعیۃ علماء اسلام کی ملک گیر سرگرمیاں دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اور مختلف دوستوں کے متنوع سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ میں نے ان سرگرمیوں کے آغاز پر ایک کالم میں لکھا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا موقف اور رخ دونوں میرے خیال میں درست ہیں مگر رفتار اور لہجے کے حوالہ سے کچھ تحفظات ذہن میں موجود ہیں، یہ تحفظات ابھی تک قائم ہیں یا ان میں کچھ فرق پڑا ہے اس کے بارے میں کچھ دنوں کے بعد ہی عرض کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جناب صدر! پاکستان ”آئیڈیل ازم“ کے لیے بنا ہے
صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بہت کچھ فرمایا ہے اور ریفرنڈم مہم کے لیے جن پبلک جلسوں کا حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ان میں بھی صدر محترم کچھ فرمائیں گے۔ انہوں نے آئندہ سیاسی نظام کے لیے اپنی ذات کو محور بنانے اور آئینی ترامیم کے حوالہ سے اپنی سوچ کو واحد بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی روایات کی پاسداری معروضی حالات میں ان کا ”حق“ بنتا ہے کیونکہ پاکستان کے ہر چیف آف آرمی سٹاف کو عملاً ملک میں سب سے بڑے ”پاور بروکر“ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور کو چھیڑنا خطرناک ہوگا
جناب محمد رفیق تارڑ ایوان صدر سے رخصت ہو کر لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر آرام کر رہے ہیں اور بعض اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ان کا ارادہ اب مطالعہ کتب اور لکھنے پڑھنے کا ہے۔ وہ ملک میں دستور کی آخری علامت کے طور پر باقی رہ گئے تھے اور شاید اسی وجہ سے انہوں نے فوجی حکام کے تقاضے پر استعفیٰ دینے سے انکار کیا مگر ان کے انکار کے باوجود انہیں پی سی او کے تحت سبکدوش کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا گیا اور ان منتخب اداروں کے سربراہوں کو بھی ان کے مناصب سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’حسبہ بل‘‘ پر عدالت عظمیٰ کا نیا فیصلہ
بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق صوبہ سرحد کے وزیر قانون ملک ظفر اعظم سپریم کورٹ آف پاکستان میں ”حسبہ بل“ کے مقدمہ میں ناکامی پر دل برداشتہ ہو گئے ہیں اور وزارت سے مستعفی ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ حسبہ بل صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت نے عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کرنے کے لیے پیش کیا تھا، جسے صوبائی اسمبلی نے منظور کر لیا لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے چیلنج کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس بل کی تین دفعات کو دستور کے منافی قرار دے دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’پاکستان، ترکی یا الجزائر نہیں ہے‘‘
متحدہ مجلس عمل کے اعلٰی سطحی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور اسلامی رہے گا، اس کے دستور کی بنیاد اسلام پر ہے اس لیے کوئی چاہے بھی تو پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس کی اسلامی دفعات سے کوئی تعرض کیا جا رہا ہے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اسے اقتدار منتقل کر دیں گے کیونکہ پاکستان ترکی یا الجزائر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گوادر ڈپلومیسی
صدر جنرل پرویز مشرف بھارت کے کامیاب دورے سے واپس آگئے ہیں اور ان کے دورے کے مختلف پہلوؤں پر قومی اور بین الاقوامی پریس میں گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے۔ جس رات جنرل پرویز مشرف آگرہ سے واپس اسلام آباد آئے صبح کے اخبارات کی جلی سرخیوں میں دورے کو ناکام قرار دے کر بھارت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ ایک دو روز کے بعد دورے کو ناکام کی بجائے نامکمل کہنا شروع کر دیا گیا۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دورہ نامکمل تھا نہ ناکام، بلکہ صدر مشرف نے وہ مقاصد حاصل کر لیے جو وہ اس دورے سے حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ آگرہ سے اپنے مشن میں کامیاب ہو کر واپس لوٹے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدر پرویز مشرف کے دس سوالات کا جائزہ
صدر جنرل پرویز مشرف کے جس خطاب کا پورے ملک بلکہ دنیا بھر میں انتظار کیا جا رہا تھا وہ چند دن پہلے سن لیا گیا ہے اور اس پر مختلف اطراف سے تبصروں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ ہم اس خطاب کے مختلف پہلوؤں پر کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں مگر پہلے ایک فنی کوتاہی کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو ٹی وی پر صدر پرویز مشرف کا خطاب سنتے ہوئے ہمیں محسوس ہوئی ہے، وہ یہ کہ صدر صاحب کی تقریر کے ساتھ ساتھ نشر ہونے والے انگلش ترجمہ کا نظم معیاری نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظریۂ ضرورت اور ایڈہاک ازم
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے معاملہ نے اس قدر حیران و ششدر کر رکھا ہے کہ کئی بار قلم اٹھانے کے باوجود اس کالم کے لیے کچھ نہ لکھ سکا اور یہ زندگی کا پہلا تجربہ ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں اپنے ہفتہ وار کالم ”نوائے قلم“ کے لیے ایک مختصر سا مضمون لکھنے کے بعد قلم کو بریک سی لگ گئی اور بمشکل آج ذہن کو آمادہ کر پا رہا ہوں کہ اس کے بارے میں پھر قلم اٹھاؤں اور جو کچھ سامنے آ چکا ہے اس کے بارے میں کچھ معروضات قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فیصلے سے قبل ہی سزا
جسٹس افتخار محمد چودھری نے جب اسٹیل ملز کی پرائیویٹائزیشن کے حوالے سے فیصلہ دیا تو یہ خدشہ اسی وقت سے ذہن پر منڈلانے لگا تھا کہ ”کچھ ضرور ہو گا“۔ پھر جب پتنگ بازی کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ سامنے آیا تو خدشے کا دائرہ وسیع ہو نے لگا، جب کہ بہت سے دیگر کیسوں میں چیف جسٹس کے برق رفتار فیصلوں نے بھی اس خدشے کو خطرے کا روپ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن سچی بات ہے کہ اس صورتحال کا ذہن کے کسی گوشے میں وہم و گمان بھی نہ تھا جس کا ملک کی عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جسٹس افتخار محمد چودھری کا تاریخی خطاب
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجتماع سے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کا خطاب میں نے لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسیٰ منصوری کے گھر بیٹھ کر سنا۔ مجھے ۵ مئی کو لاہور سے لندن کے لیے سفر کرنا تھا، اسی روز جسٹس افتخار محمد چودھری صاحب کے لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب کی خبر اخبارات میں پڑھی تو دو حوالوں سے تشویش ہوئی، ایک اس حوالہ سے کہ جب وہ گوجرانوالہ سے گزریں گے تو میں ان کے استقبال میں شریک نہیں ہو سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانوی استعمار اور امریکی استعمار کے مزاج کا فرق
تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر ایک بات عرصہ سے محسوس کر رہا ہوں اور کبھی کبھار نجی محافل میں اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے مگر اب اس احساس میں قارئین کو شریک کرنے کو جی چاہ رہا ہے، وہ یہ کہ ہر استعمار کا الگ مزاج ہوتا ہے اور اس کے اظہار کا اپنا انداز ہوتا ہے، ہم نے برطانوی استعمار کے تحت دو صدیاں گزاری ہیں، ایک صدی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ماتحتی میں اور کم و بیش اتنا ہی عرصہ تاج برطانیہ کی غلامی میں گزار کر ۱۹۴۷ء سے آزاد قوم کی تختی اپنے سینے پر لٹکائے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ توجہ درکار ہے
وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے بارے میں زیر سماعت مقدمہ کو غیر متعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور چیف جسٹس صاحب نے اس کے ساتھ یہ ریمارکس دیے ہیں کہ جس دور میں سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت کے حالات مختلف تھے اس لیے ان حالات میں نافذ کیے گئے قوانین و احکام کو آج کے دور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، جبکہ مقدمہ کے التوا کے اسباب میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ قرآن کریم نے ’’ربٰوا‘‘ کی جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ مروّجہ سود سے مختلف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پسند کی شادیاں اور طلاق کی شرح
روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۱ نومبر ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’پسند کی شادیاں کرنے والی پندرہ سو لڑکیوں نے شادی کے ایک برس بعد ہی طلاقیں لے لیں۔ قانونی ماہرین نے پسند کی شادیوں کو معاشرے کے لیے بوجھ قرار دے دیا ہے۔ رواں برس میں جنوری سے نومبر تک لاہور کی سول عدالتوں نے دو ہزار خواتین کو طلاق کے سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جن میں پندرہ سو خواتین پسند کی شادیاں کرنے والی شامل ہیں۔ ان عدالتوں نے یہ سرٹیفکیٹس یکم جنوری سے یکم نومبر کے درمیانی عرصہ کے دوران جاری کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی مسئلہ پر قوم کے شکوک و شبہات
انتخابی قوانین میں ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ حالیہ بل میں قادیانیوں سے متعلق بعض شقوں میں تبدیلی کے انکشاف نے ملک بھر میں اضطراب کی ایک نئی لہر پیدا کر دی تھی، چنانچہ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہونے پر قومی اسمبلی نے ترامیم کا قادیانیوں سے متعلقہ حصہ واپس لے کر سابقہ پوزیشن بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں شکوک و شبہات اور بے چینی کا ماحول موجود ہے اور مختلف دینی و قانونی حلقوں کی طرف سے صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کے خاندانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی صورتحال
روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۳ اگست ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے اکٹھی تین طلاقیں دینے کے عمل کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت ہند سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس دوران قانون سازی کرے۔ یہ مسئلہ کافی عرصہ سے بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور ہم اس سے قبل ان صفحات میں اس پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور اب اس کا ذکر کرنے کا مقصد دینی و علمی حلقوں کو اس طرف ایک بار پھر توجہ دلانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آزاد کشمیر میں شرعی عدالتوں کے نظام کا تحفظ ضروری ہے
۱۰ جولائی کو پلندری جانے کا اتفاق ہوا، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان کے بیٹے کا ولیمہ تھا، اس موقع پر آزاد کشمیر کے بعض سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی کہ ریاست آزاد و جموں کشمیر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر ججز اور قاضی صاحبان پر مشتمل جو دو رکنی عدالتیں کام کر رہی ہیں، ان کی بساط دھیرے دھیرے لپیٹی جا رہی ہے اور ہائیکورٹ کی سطح پر جو شرعی عدالت مصروف عمل ہے اس کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس سامنے آچکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تبدیلی کا مثالی فارمولا
ان دنوں ملک و قوم کے نظام اور معاشرتی صورتحال میں بہتری لانے کے دعوے ہر طرف سے کیے جا رہے ہیں، اور حکومت و اپوزیشن کے سب لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کے موجودہ حالات کو بدلنا اور عوام کو ایک بہتر نظام اور سوسائٹی سے روشناس کرانا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ایک دوسرے پر کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے سنگین الزامات بھی مسلسل دہرائے جا رہے ہیں اور ایک عجیب سی صورتحال ملک میں پیدا ہو گئی ہے جس سے عام شہری پریشان ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ قومی راہنماؤں میں کس کا رخ کدھر کو ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اپنے آزادانہ کردار سے کیوں دستبردار نہیں ہوتے؟
دینی مدارس کا نظام ایک بار پھر ریاستی اداروں کے دباؤ کی زد میں ہے اور یہ کوشش نئے سرے سے شروع ہو گئی ہے کہ مدارس دینی تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں اپنے آزادانہ کردار سے دستبردار ہو کر خود کو بیوروکریسی کے حوالہ کر دیں۔ چنانچہ روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی متعدد میٹنگوں کے بعد وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ تمام دینی مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم کے انتظام میں دے دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نتن یاہو، نریندرا مودی کے نقش قدم پر
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا میں مسلسل گردش کر رہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو غرب اردن کے بعض علاقوں کو وہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔ اسرائیل کی جو سرحدیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے موقع پر طے کی تھیں، ان کے علاوہ اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بین الاقوامی دستاویزات میں متنازعہ سمجھے جاتے ہیں، اور غرب اردن کا وہ علاقہ بھی ان میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کشمیر اور افغانستان کی تازہ صورتحال پر ایک نظر
پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینیتھ میکنزی کے درمیان گزشتہ روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات خطہ کی موجودہ صورتحال بالخصوص کشمیر اور افغان مسئلہ کے حوالہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس سے دور رس نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ افغانستان کے حوالہ سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ایک عرصہ سے جاری مذاکرات اچانک ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے ہیں اور عین اس وقت جب کہ مذاکرات کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کی خبروں کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟
اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ صاحب کے ارشاد کے حوالہ سے آپ کا کالم نظر سے گزرا۔ میری طالب علمانہ رائے میں ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کا ارشاد بالکل بجا ہے کہ قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کے درجہ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، وہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ معمول کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ممالک کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ملت اسلامیہ نے کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر