برما میں مسلمانوں کی حالت زار
دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے شمارہ ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’برما میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ’’ماگ‘‘ کی جانب سے مسلمان آبادی پر مسلط کی گئی جارحیت میں اب تک کم سے کم ۲۵۰ مسلمان شہید، ۵۰۰ زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک برمی مندوب محمد نصر نے عرب ٹی وی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مسلمانوں پر مسلط کی گئی جارحیت میں تین سو افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن
گزشتہ جمعۃ المبارک کے روز رینجرز اور پولیس نے جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کا محاصرہ کر کے تین گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے پر فورسز واپس چلی گئیں۔ جامعہ دار العلوم کراچی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے جس کی تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں اور خدمات کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور خاص طور پر افتاء میں اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حقوقِ انسانی اور امریکہ
دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ نے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ: ’’امریکی شہر نیویارک میں ایک معروف نیلام گھر کے تحت سابق امریکی صدر کا دستخط شدہ امریکہ میں غلاموں کی آزادی کے قانون کا نایاب و تاریخی مسودہ ۲۰ لاکھ (۲ ملین ڈالر) سے زائد رقم میں نیلام ہو گیا ہے۔ ۱۸۶۴ء میں پیش کیے جانے والے Emancipation Proclamation نامی اس قانونی مسودہ کو اس وقت کے امریکی صدر ابراہام لنکن نے منظور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور عیسائی مصنف
روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی ریاست ایوا کی لوتھر یونیورسٹی میں مذاہب اور عقائد کے شعبہ کے سربراہ عیسائی اسکالر ڈاکٹر روبرٹ شیڈنگر نے ایک کتاب تصنیف کر کے امریکی عیسائیوں کو برہم کر دیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ’’ کیا حضرت عیسٰیؑ مسلمان تھے؟ ‘‘ امریکی اسکالر آسمانی کتابوں کے مسلسل مطالعہ اور دنیا بھر کے علمائے دینیات کی آرا جمع کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صحیح معنوں میں ’’مسلم‘‘ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغربی فلسفہ حیات کی مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ کشمکش
روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں ۱۴ جولائی ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ جمہوریت میں پنچایت یا فتوے کے ذریعے بندشوں کے نفاذ اور کسی کی نجی آزادی سلب کرنے کے اقدام کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات وزیر داخلہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی، ان سے دہلی سے ملحق باغپت کی ایک پنچایت کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ
روزنامہ پاکستان میں نیویارک سے جناب قمر علی عباسی ’’اور پھر بیان اپنا ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں، انہوں نے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ: ’’برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں ان کے کردار پر بین الاقوامی کریمینل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حجاب اور اطالوی وزیر داخلہ
روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ ستمبر ۲۰۱۲ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ روبرٹو میرونی نے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کی ہر تصویر حجاب کے ساتھ ہے تو وہ کس طرح مسلمان خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہینِ رسالت ؐ کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے
توہین رسالت ؐ پر مبنی بدنام زمانہ حالیہ امریکی فلم کے خلاف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں جس شدید ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ بلاشبہ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جناب نبی اکرم ؐ کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و عقیدت اور جذباتی وابستگی پوری شدت کے ساتھ قائم ہے اور اس میں خدانخواستہ کمی یا کمزوری کی جو امید عالمی سیکولر لابیوں نے ایک عرصہ سے اپنے ذہنوں میں بسا رکھی ہے اس کا کوئی امکان ابھی تک پیدا نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’سودی نظام‘‘ پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار
مفتیان کرام سے میں نے مختصرًا چند باتیں عرض کریں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تفسیر قرطبیؒ میں مذکور ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ہے۔ یہ سن کر وہ چلا گیا۔ اس پر مجلس کے حضرات نے عرض کیا کہ حضرت! توبہ کی گنجائش تو ہر گنہگار کے لیے ہوتی ہے اور آپ نے بھی اس سے قبل فرمایا تھا کہ قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے، جبکہ اس سائل کو آپ نے اس کے خلاف بات کہہ دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی کے دو بڑے جامعات کے خلاف کاروائیاں
رمضان المبارک کے دوران جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی پر رینجرز کے چھاپے اور تلاشی کے افسوسناک واقعات پر ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اور بالادست قوتیں اس قسم کی کاروائیاں کر کے دینی مدارس کو خوف و ہراس کا شکار بنا نے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف نئی نسل کی روز افزوں رغبت کو روکنے کی خواہاں ہیں۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس پر ملک بھر میں جس ردعمل کے اظہار کی توقع کی جا رہی تھی وہ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
روہنگیا مسلمانوں کی داستان مظلومیت
میانمار (برما) کی سرحدوں کے اندر اراکان نام کا خطہ جو ایک دور میں مسلمانوں کی خودمختار ریاست ہوا کرتا تھا ان دنوں بدھ دہشت گردوں کی وحشت و بربریت کا شکار ہے اور مسلم اکثریت کا یہ صوبہ اس ظلم و جبر اور وحشیانہ تشدد کے باعث مسلمانوں کے وجود سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اس خطہ کے مسلمانوں کا جرم یہ بتایا جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی المناک وفات
گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مکمل تحریر
قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس میں حکومتی ذمہ داری
پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے سفارش کی ہے کہ قرآن کریم کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ روزنامہ اسلام لاہور ۹ مارچ ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق یہ قرار داد ایک خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۹ مارچ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی ۹۵ ہزار کے قریب سفارشات اور ۷۰ کے لگ بھگ رپورٹیں قانون سازی کا حصہ بننے کی بجائے کاغذوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہیں اور ان رپورٹوں کو اب تک کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات
روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق نو مسلم خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالہ سے کام کرنے والے ادارہ ’’شرکت گاہ‘‘ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فوزیہ وقار اور عورت فاؤنڈیشن لاہور ریجن کی نسرین زہرہ اور ممتاز نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل نہیں ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور قادیانی
ملک کے ممتاز صحافی اور کالم نویس جناب خوشنود علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں وسیع تر اراضی پر تعمیر ہونے والے نئے امریکی سفارت خانہ کی تعمیر و منصوبہ بندی کا کام قادیانیوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے اور کم و بیش دو سو قادیانیوں پر مشتمل عملہ اس منصوبہ میں مصروف عمل ہے۔ اسلام آباد میں نئے امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی جو تفصیلات اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان پر بجائے خود عوامی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سزائے موت ختم کرنے کی تیاری
روزنامہ ایکسپریس فیصل آباد ۲۴ مئی ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی، اس ضمن میں مسوّدہ قانون تیاری کے آخری مراحل میں ہے، انہوں نے کہا کہ نئے مجوزہ قانون کے تحت تعزیرات میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی جبکہ حدود قوانین میں بدستور یہ سزا قائم رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غریبوں کے قرضوں پر تین گنا سود
روزنامہ اسلام لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگلے بجٹ میں غریب عوام کے لیے رہائشی سہولیات اور بینکوں سے حاصل کردہ قرضوں پر سود کی معافی کی سکیم کا اعلان کرے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں بے گھر کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کر دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالمی رابطہ ادب اسلامی
۱۲ اپریل کو پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام ’’اخلاقی ادب اور قیام امن کا چیلنج‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک روزہ قومی سیمینار میں شرکت اور اس کی ایک نشست میں بطور مہمان خصوصی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی مسلم ارباب فکر و دانش کا عالمی سطح کا فورم ہے جس کا قیام اپریل ۱۹۸۱ء کے دوران ندوۃ العلماء لکھنو میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی دعوت پر منعقد ہونے والے ایک عالمی سیمینار کے موقع پر عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سرکاری دفاتر میں اردو زبان کی ترویج کا مسئلہ
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شیخ عظمت سعید نے اردو کو دفتری زبان قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے دس روز میں جواب جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل اےکے ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں اب بھی انگریزی کو دفتری زبان کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نصابی کتابوں سے عقیدۂ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج
برصغیر پاک و ہند میں تو برطانوی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی دی اس پالیسی کے مرتب لارڈ میکالے نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم ایک ایسا نظام تعلیم دے رہے ہیں جس سے تعلیم و تربیت پانے والے مسلمان اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ چنانچہ اسی لیے مستقبل کے خدشات پر نظر رکھنے والے علماء کرام اور اہل دانش نے دینی تعلیم کا الگ سے پرائیویٹ نظام قائم کر کے مسجد و محلہ کی سطح پر قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم کا ماحول بنایا اور دینی مدارس کا ایک وسیع جال پورے جنوبی ایشیا میں پھیل گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ عباسیہ بہاولپور کے حوالہ سے ایک وضاحت / سودی نظام کے خلاف قومی اسمبلی میں بل
فیس بک پر میرے نام سے ایک پوسٹ چل رہی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ پوسٹ میری نہیں ہے اور بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ دراصل میں نے ایک وائس میسج میں بتایا تھا کہ درس نظامی کے ایک بڑے ادارہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کو صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور حکومت میں محکمہ تعلیم کی تحویل میں دیا گیا تھا، اور اسے اسلامی یونیورسٹی کا نام دے کر عصری تعلیم اور درس نظامی کو یکجا کر کے کچھ عرصہ چلایا گیا تھا، مگر آہستہ آہستہ درس نظامی کے پورے نصاب کو اس سے خارج کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سندھ میں اسلام قبول کرنے والے ہندوؤں کا مسئلہ
بھرچونڈی شریف کا نام سامنے آتے ہی سرِ نیاز خودبخود عقیدت سے خم ہو جاتا ہے کہ سندھ کی اس عظیم خانقاہ کے بانی عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیق قادریؒ ان اکابر صوفیائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور جناب نبی اکرم صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی محبت کا خوگر بنانے کے ساتھ ساتھ حریت فکر اور آزادیٔ وطن کے جذبات سے بھی مسلسل روشناس رکھا۔ جبکہ ہمارے لیے اس خانقاہ کے ساتھ بے پایاں عقیدت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ضلع سیالکوٹ کے ایک نو مسلم نوجوان کو جو بوٹا سنگھ سے عبید اللہ بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مانسہرہ میں ’’ناموس رسالتؐ ملین مارچ‘‘
ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو کا کام جاری ہے، رکن سازی کے بعد مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ چل رہا ہے اور مرکزی و صوبائی جماعتی انتخابات کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ہی ’’تحفظ ناموس رسالتؐ ملین مارچ‘‘ کے عنوان سے اجتماعات بھی تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ایک درجن کے لگ بھگ شہروں میں کامیاب عوامی ریلیوں کے بعد اب ۲۸ اپریل کو مانسہرہ میں بڑا عوامی مظاہرہ کرنے کی تیاریاں نظر آرہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن و سنت کی دستوری بالادستی
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ (۱۸ جنوری ۲۰۱۲ء) کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محترم جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے کسی قانون کے درمیان حائل ہے تو اس کے لیے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے ایک رٹ درخواست کی سماعت کے دوران کہی جس میں درخواست گزارنے استدعا کی ہے کہ قوانین کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے لیے قراردادِ مقاصد کے تحت قرآن و سنت کے احکام کو ملکی قوانین کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی خواتین کمیشن کا قیام
روزنامہ نئی بات لاہور (۲۰ جنوری ۲۰۱۲ء) میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق قومی اسمبلی نے گزشتہ روز ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے جو وزیر اعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفٰی نواز کھوکھر نے پیش کیا اور اسے اپوزیشن کی بعض ترامیم کو شامل کرنے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کے مطابق حکومت پاکستان ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ قائم کرے گی جس میں ہر صوبہ سے دو جبکہ وفاق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغان طالبان کی استقامت کو سلام
روزنامہ پاکستان لاہور میں ۱۴ جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے ایک ٹاپ سیکرٹ جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار حاصل کرنے اور دوبارہ سخت مذہبی قوانین نافذ کرنے کے مقصد کو ترک نہیں کیا۔ اس جائزے نے اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے کابل اور شورش پسندوں کے درمیان امن معاہدہ کرانے کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں، ان کی کامیابی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی اسمگلنگ اور غلامی کی نئی شکلیں
مغربی ملکوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے انسانی معاشرہ سے غلامی کو ختم کر دیا ہے اور انسان کو وہ عزت فراہم کر دی ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ لیکن یہ دعویٰ صرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی فائلوں میں درج ہے، جبکہ اس کی عملی صورت یہ ہے کہ لاکھوں انسانوں کو آج بھی عالمی سطح کے منظم ادارے ورغلا کر اور دوسرے ملکوں میں بہتر روزگار کی فراہمی کی لالچ دے کر تکنیکی طور پر غلام بنا لیتے ہیں اور پھر ان سے غلاموں کی طرح ہی کام لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موسمی تبدیلیاں اور دنیا کو درپیش خطرات
سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۲۸ جولائی ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے افسر رثم سٹائز نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ اس سے قدرتی آفات میں اضافہ ہو گا اور ان آفات کی وجہ سے آنے والی دہائیوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنوبی سوڈان کی آزادی اور سوڈان کا مستقبل
اقوام متحدہ کی طرف سے ’’جنوبی سوڈان‘‘ کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر رکنیت دینے کے فیصلے کے ساتھ ہی سوڈان کی پہلی تقسیم مکمل ہو گئی ہے اور دوسری تقسیم کی طرف پیشرفت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوڈان جو افریقہ کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک تھا نسلی اعتبار سے تین اکائیوں پر مشتمل ہے: (۱) شمالی سوڈان، جہاں عرب مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ (۲) جنوبی سوڈان جہاں مسیحیوں اور روح پرست افریقی قبائل کی اکثریت ہے۔ (۳) اور مغربی سوڈان جہاں افریقی مسلمان آباد ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کا پاکستان میں شرعی قوانین ختم کرنے کا مطالبہ
روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۰ دسمبر ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے! ’’اسلام آباد (طاہر خلیل) پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے ایک اور حربہ کے طور پر برسلز میں قائم مغربی ترجمان انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے وفاقی شرعی عدالت کو ختم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آئی سی جی نے ’’پاکستان میں اسلامی پارٹیاں‘‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ تازہ رپورٹ میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)، جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خواتین کے حقوق کا بل
روزنامہ اسلام لاہور (۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے منظور کردہ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس سے یہ بل قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔یہ قانون پارلیمنٹ کے منظور کردہ دو مسودوں پر مشتمل ہے جس کے مطابق: خواتین کی جبری شادی پر ۳ سے ۷ سال کی سزا ہو گی۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے پر ۵ سے ۱۰ سال سزا ہو گی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بے حیائی کا مسلسل فروغ اور ہماری کوتاہیاں
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق بھارت کی ایک مسلمان تنظیم ’’ آل انڈیا مسلم کمیٹی‘‘ نے ایک معروف پاکستانی اداکارہ کی شرمناک حرکات کے باعث اسے مسلم کمیونٹی سے خارج قرار دے کر بھارتی مسلمانوں سے اس کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، کمیٹی کے بیان کے مطابق پاکستانی اداکارہ کی قابل اعتراض اور نازیبا تصاویر اور ریئلٹی شو میں نکاح کی توہین کا رویہ اسلامی معاشرے میں منفی رجحانات کو فروغ دے سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعلیمی نظام کے حوالہ سے چیف جسٹس پاکستان کے ارشادات
چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ۷۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز میں تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کے حوالہ سے آگاہی کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے معاملہ کو سن لیں اس کے بعد معاملہ حکومت کے ساتھ ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میمو کمیشن اور منصور اعجاز
ان دنوں میمو کمیشن کا اجلاس جاری ہے اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ منصور اعجاز لندن سے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انتہا پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ سے امداد طلب کی تھی اور پاکستان کے آرمی چیف کو ان کے منصب سے الگ کرانے کی تحریک کی تھی۔ میمو کمیشن کی کاروائی جاری ہے اس لیے ہم ان امور کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بلوچستان کی صورتحال اور لمحۂ فکریہ
دفاع پاکستان کونسل نے ۲۷ فروری کو کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور دیگر راہنما مسلسل متحرک ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان پر اے پی سی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کی تیاریاں جاری ہیں۔ادھر امریکی کانگریس میں بلوچستان کو خودمختاری دیے جانے کی قرارداد پیش ہوئی ہے جس پر پاکستان کے سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ویلنٹائن ڈے کے دو مناظر
۱۴ فروری کو دنیا بھر میں ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘ منایا گیا اور پاکستان میں بھی اس عنوان سے محبت کے نام پر بے حیائی کے مختلف مناظر دیکھنے میں آئے جن میں سے ایک منظر روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ (۱۵ فروری ۲۰۱۲ء) کے مطابق یہ ہے کہ: ’’جلال پور جٹاں میں دوشیزہ نے ویلنٹائن ڈے پر پھول پیش نہ کرنے پر منگیتر کی بھرے بازار میں پٹائی کر دی۔ جبکہ سمبڑیال میں طالبہ نے پھول پیش کرنے پر دو منچلوں کی چھترول کر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تجارت میں عورت کی نمائش اور تضحیک
روزنامہ جنگ لاہور (۱۳ فروری ۲۰۱۲ء) کی ایک خبر کے مطابق جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عوام کی عدالت‘‘ میں جیوری نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ۶۵ فیصد کی واضح اکثریت کے ساتھ یہ تسلیم کیا ہے کہ اشتہارات میں عورت کی غیر ضروری نمائش خواتین کی تضحیک ہے۔ اس موضوع پر عوام کو رائے دینے کے لیے کہا گیا تھا جس پر اس قرارداد کے حق میں اور اس کے خلاف لوگوں نے رائے دی اور جیوری کے مطابق ۶۵ فیصد عوام نے اس موقف سے اتفاق کیا کہ اشتہارات میں عورت کی نمائش اس کی تضحیک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند دینی تقریبات میں شرکت
۱۴ اپریل اتوار کا دن خاصا مصروف گزرا، حسب معمول فجر کی نماز الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پڑھا کر مختصر درس دیا اور حافظ شاہد میر کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوگیا جہاں ادارہ علوم اسلامی بھارہ کہو میں مولانا جہانگیر محمود کے ادارہ ’’ینگ علماء لیڈر شپ پروگرام‘‘ کے تحت علماء کرام کے لیے تربیتی ورکشاپ ہو رہی ہے۔ میں نے دس سے بارہ بجے تک کی نشست میں شرکت کی اور علماء کرام سے معاشرتی قیادت کے حوالہ سے کچھ گزارشات کیں جن کا خلاصہ یہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان
نیویارک سے اردو میں شائع ہونے والے جریدہ ہفت روزہ ’’ایشیا ٹربیون‘‘ کے ۲۴ نومبر کے شمارہ میں خبر شائع ہوئی ہے کہ: ’’سوئیٹزرلینڈ میں مساجد اور ان کے میناروں کے خلاف مہم چلانے والے معروف سیاستدان نے قبول اسلام کے بعد اب سوئیٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان کر دیا ہے جس کے مینار سوئیٹزرلینڈ میں واقع کسی بھی مسجد سے بلند ہوں گے۔ سوئس پیپلز پارٹی ایس وی پی سے وابستہ ڈینئیل اسٹریج کی جانب سے قبول اسلام پر مقامی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ماڈل دینی مدرسوں کا حشر
جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار کا ماحول تبدیل کرنے کے لیے سرکاری سطح پر متوازی ماڈل دینی مدارس کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور کروڑوں روپے خرچ کر کے چند ماڈل دینی مدارس تعمیر کیے گئے تھے جن میں اساتذہ اور طلبہ کے لیے سہولتوں اور مفادات کے پرکشش اعلانات بھی ہوئے تھے۔ مگر ان ماڈل مدرسوں کا کیا حشر ہوا؟ اس کی جھلک روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۲۵ ستمبر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے خلاف مغربی حکمرانوں کی مہم
سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسٹر جارج ڈبلیو بش کے سب سے بڑے اتحادی رہے ہیں اور انہوں نے عراق اور افغانستان پر اتحادی فوجوں کی لشکر کشی کا ہمیشہ دفاع کیا ہے۔ مگر جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ عراق پر فوج کشی ممنوعہ ہتھیاروں کی موجودگی کے جس الزام میں کی گئی تھی، وہ غلط ثابت ہوا ہے اور عراق میں کہیں بھی اس قسم کے ممنوعہ ہتھیاروں کا سراغ نہیں ملا، تو مسٹر ٹونی بلیئر نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ اس کے باوجود عراق پر ہمارا حملہ ضروری تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایران میں زواج متعہ کا قانونی فروغ
نیویارک سے شائع ہونے والے عربی جریدہ ’’غربۃ‘‘ نے ۱۱ نومبر ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ ایرانی حکومت نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی پر قابو پانے کے لیے زواج مؤقت (متعہ) کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے اور عام شاہراہوں پر اس مقصد کے لیے مراکز قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خبر کے مطابق ان مراکز کو ’’بیوت العفاف‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ غیر رسمی جنسی تعلقات کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ’’زواج مؤقت‘‘ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شادی کے مقدس بندھن کا مذاق نہ اڑایا جائے
چند ماہ قبل جس روز اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں پاکستانی ہم جنس پرستوں کا اجتماع ہوا، اسی روز نیویارک میں سینکڑوں ہم جنس مرد جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ شادی کے قانونی بندھن میں بندھے تھے اور نیویارک کے میئر نے اس تقریب کی صدارت کی تھی۔ جبکہ مرد اور عورت کی فطری شادیوں کی صورتحال یہ ہے کہ روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۵ ستمبر کو یہ خبر شائع کی ہے: ’’لاس اینجلس (اے پی پی) انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے بچوں نے ان پر شادی کرنے کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ شریعت کے لیے مسیحی مصری راہنما کا مطالبہ
ہیوسٹن (امریکہ) سے شائع ہونے والے عربی جریدہ ’’اعداد‘‘ نے ۲۹ جون ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ عرب جمہوریہ مصر میں حال ہی میں ابھر نے والی عوامی تحریک ’’الحریۃ والعدالۃ‘‘ کے ایک مسیحی راہنما ناجی نجیب نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کے قوانین نافذ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نفاذِ شریعت سے ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ ’’لا خوف من تطبیق الحدود الاسلامیۃ فاذا کان السارق جزاءہ ان تقطع یدہ فلتقطع والقاتل یقتل‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں کرپشن کی حکمرانی
ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ (ہیوسٹن، امریکہ) نے ۱۴ جولائی ۲۰۱۱ء کے شمارے میں یہ خبر شائع کی ہے کہ عالمی ادارہ ’’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘‘ نے ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران کرپشن میں چار سو گنا اضافہ ہوا ہے اور اس سے قومی خزانہ کو تین ہزار ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے حکومتی اداروں میں کرپشن اپنے عروج پر ہے اور وزراء اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کی کرپشن کی کہانیاں زبان زد عوام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کی تقریب
۲۶ جون ۲۰۱۱ء کو اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی پاکستانی ہم جنس پرستوں کی تقریب کے حوالے سے ملک کے مذہبی حلقوں کا احتجاج جاری ہے اور اس سلسلہ میں عوامی مظاہروں کے ساتھ ساتھ احتجاجی بیانات کے ذریعہ بھی پاکستانی عوام کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن امریکی سفارت خانے یا امریکی حکومت کی طرف سے اس سلسلہ میں کسی ندامت یا افسوس کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی ۹۷ ارب ڈالر کی رقم
روزنامہ پاکستان لاہور (۱۹ ستمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’سوئس بینک کے ایک ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ سوئس بینکوں میں پاکستان کی ۹۷ ارب ڈالر کی رقم پڑی ہے، پاکستانی غریب ہیں لیکن پاکستان غریب نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے ۹۷ ارب ڈالر کی رقم سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں ڈیپازٹ ہیں۔ اگر اس رقم کو استعمال کیا جائے تو پاکستان جیسا ملک اس رقم سے ۳۰ سال تک ٹیکس فری بجٹ بنا سکتا ہے، تمام پاکستانیوں کو چھ کروڑ ملازمتیں دی جا سکتی ہیں، کسی بھی دیہات سے اسلام آباد تک دو رویہ سڑکیں تعمیر کی جا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کرپشن کے خلاف مہم اور اصل ضرورت
گزشتہ روز (۲۱ ستمبر ۲۰۱۱ء ) گوجرانوالہ کے مختلف طبقات کے سرکردہ لوگوں نے کرپشن کے خلاف ایک ’’واک‘‘ کا اہتمام کیا جس میں سرکردہ سیاستدان حضرات، تاجر راہنماؤں، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان، علماء کرام و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، سرکاری افسران، صحافیوں، اساتذہ، خواتین، طلبہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس واک کا اہتمام گوجرانوالہ تھنکرز فورم نے ڈی آئی جی پولیس (ویلفیئر) ذوالفقار احمد چیمہ کی سرکردگی میں کیا اور یہ حضرات پیدل مارچ کرتے ہوئے جنرل بس اسٹینڈ سے ماڈل ٹاؤن کی مکرم مسجد تک گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر