مقالات و مضامین

دیوبندیت! ایک عالمی فکری تحریک

روزنامہ اسلام لاہور (۱۰ ستمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ’’عالمگیر دیوبندیت اور تبلیغی جماعت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، معروف جرمن اسکالر اور کراس روڈ ایشیا پروجیکٹ (زنیٹرم ماڈرنر اورینٹ) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈائرچ ریٹز نے سیمینار کے موضوع کے حوالہ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ممتاز احمد، نائب صدر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈمی صاحبزادہ ساجد الرحمن سمیت اساتذہ، انتظامی افسران، ملازمین اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۱ء

کراچی کا سفر اور جامعہ دارالعلوم میں حاضری

۶ تا ۱۰ اپریل پانچ روز کراچی میں قیام رہا اور مختلف دینی اداروں میں حاضری کے علاوہ معہد الخلیل الاسلامی کے زیر اہتمام ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے حوالہ سے سات کے لگ بھگ محاضرات میں گفتگو کا موقع ملا جن کا عنوان اگرچہ دروس کا تھا مگر وہ زیادہ تر حجۃ اللہ البالغۃ کے بعض مضامین کے بارے میں میرے تاثرات و محسوسات اور تعبیرات پر مشتمل تھے۔ مولانا محمد یحیٰی مدنی اور مولانا محمد مدنی کی توجہ اور محنت سے علماء کرام اور اساتذہ کی بڑی تعداد شریک تھی اور انہوں نے بہت دلچسپی کے ساتھ میری گزارشات کو سنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اپریل ۲۰۱۹ء

’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ پر چند تعارفی دروس

معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی کے رئیس مولانا محمد الیاس مدنی کا ارشاد تھا کہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ پر ان کے ہاں کچھ تعارفی دروس کا اہتمام ہو جائے، ملک کے مختلف علاقوں کے دیگر متعدد احباب کی طرف سے بھی ایک عرصہ سے یہ فرمائش جاری ہے۔ خود میرا حال یہ ہے کہ، کسی تکلف کے بغیر، خود کو اس کا پوری طرح اہل نہیں سمجھتا اور بہت سے امور میں تشنگی محسوس کرتا ہوں۔ لیکن اس کی دن بدن بڑھتی ہوئی ضرورت و اہمیت کے باوجود اس سلسلہ میں ایسے عمومی دائرے میں اس کی تکمیل کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۱۹ء

جے یو آئی کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت سے انٹرویو

مولانا زاہد الراشدی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت، پاکستان قومی اتحاد پنجاب کے جنرل سیکرٹری، اور جمعیۃ کی مرکزی ٹیم کے جواں سال و فعال رہنما ہیں۔ یوں تو آپ گزشتہ کئی سالوں سے جمعیۃ علماء اسلام کو ملک کی ایک منظم و منضبط جماعت بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں لیکن گزشتہ تین سالوں میں آپ نے جماعت کی تنظیم نو کے سلسلہ میں بڑی تیزی سے ملک کو کھنگال کر رکھ دیا، ملک کے بڑے بڑے شہروں سے لے کر دیہاتوں کے ابتدائی یونٹ تک کے جماعتی کارکنوں سے فردًا فردًا رابطہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۱۹۷۹ء

شریعت سے ہم آہنگ معاشی نظام

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع شدہ ۲۴ جون ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب یاسمین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری خطرات سے نمٹنے کے لیے شریعت سے ہم آہنگ ٹھوس نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس سے اسلامی بینک اور ان کے صارفین دونوں حقیقی کاروباری خطرات کم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ گزشتہ روز کراچی میں ’’اسلامی مالیات میں پیش بندی اور پیش بندی کا معاہدہ‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا آغاز ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۱ء

اسلامی نظام اور پاکستانی عوام کے جذبات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۵ جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق انٹرنیشنل سروے ایجنسی ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ نے حال ہی میں اسلامی نظام کے بارے میں پاکستانی عوام کے خیالات و جذبات معلوم کرنے کے لیے سروے کا اہتمام کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان کے ۶۷ فیصد عوام نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش کی ہے، ۲۰ فیصد لوگوں نے کسی رائے کا اظہار نہیں کیا، جبکہ ۱۳ فیصد کی رائے یہ ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جون ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیر جناب شفیق احمد نے اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب اسلام رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ۱۹۷۱ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان سے الگ ہو کر مشرقی پاکستان کے عوام نے جب بنگلہ دیش کے نام پر اپنی الگ اور آزاد ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اسے ایک سیکولر ریاست کی حیثیت دی گئی تھی اور بنگلہ دیش کے قائد شیخ مجیب الرحمن مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ یہ نئی ریاست سیکولر بنیادوں پر اپنے نئے سفر کا آغاز کرے گی۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۱ء

خلافت و امامت: اہل سنت اور اہل تشیع کا بنیادی اختلاف

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کے لیے ہر جمعرات کو ایک تعلیمی گھنٹہ فکری نوعیت کے مسائل اور حالات حاضرہ کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ اس سال پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران مختلف ادیان کے تعارف اور ان کے بارے میں ضروری معلومات پر گفتگو ہوتی رہی، جبکہ شش ماہی امتحان کے بعد سالانہ امتحان تک انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے مسلمانوں اور اہل مغرب کے درمیان جاری فکری تہذیبی کشمکش سے متعلقہ چند امور پر گفتگو ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۱ء

سرکردہ علماء کرام کے ساتھ آرمی چیف کی ایک خوشگوار نشست

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ گزشتہ روز زندگی میں دوسری ملاقات کا موقع ملا، پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب انہوں نے سپہ سالار کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے آبائی شہر گکھڑ ضلع گوجرانوالہ کے سرکردہ شہریوں کے ساتھ گوجرانوالہ کینٹ میں اجتماعی نشست کی تو میں بھی اس میں شامل تھا اور اس کے تاثرات اسی کالم میں عرض کر دیے تھے کہ صاف گو اور بے تکلف آدمی ہیں اور بات کہنے کے ساتھ ساتھ سننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۲۰۱۹ء

قومی رواداری کے عنوان پر ایک اہم سیمینار

۲۷ مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام سابق وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید محمد امین الحسنات شاہ نے کیا اور انہی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اعلامیہ (میثاق پاکستان)۔ بتاریخ ۲۷ مارچ ۲۰۱۹ء، اسلام آباد ہوٹل، اسلام آباد۔ پاکستان میں امن اور رواداری کے فروغ کے لیے مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی حلقوں کی طرف سے متفقہ طور پر جاری کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۱۹ء

حضرت الامیر کے انقلابی اعلانات اور ہماری ذمہ داریاں

حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم نے یکم مئی کی محنت کش کانفرنسوں، جماعتی انتخابات کے نظام الاوقات میں تبدیلی اور ستمبر کے آخر میں کل پاکستان نظام مصطفٰی کانفرنس کے بارے میں جو انقلابی اعلانات فرمائے ہیں وہ اخبارات میں آپ حضرات پڑھ چکے ہوں گے، اس سلسلہ میں ملک بھر کے جماعتی احباب اور شاخوں سے گزارش ہے کہ وہ ان اعلانات کی اہمیت کے پیش نظر ان پر عملدرآمد کی طرف خصوصی توجہ دیں اور مندرجہ ذیل گزارشات کا بطور خاص خیال رکھیں۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۱۹۷۹ء

گوجرانوالہ میں مدارس پر چھاپے اور علماء کرام کی گرفتاریاں

چند روز قبل گوجرانوالہ میں ریل بازار کی پولیس چوکی میں علی الصبح بم دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے دینی مدارس پر چھاپوں اور علماء کرام و دینی کارکنوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے جلیل ٹاؤن میں واقع دارالعلوم گوجرانوالہ کا محاصرہ کر لیا جو کم و بیش چار گھنٹے جاری رہا، اس دوران طلبہ کے کمروں اور اساتذہ کی رہائش گاہوں کی لیڈی پولیس اور سراغرساں کتوں کے ذریعہ تفصیلی تلاشی کی گئی۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

اسلام کے بارے میں مسلم حکمرانوں کا افسوسناک طرزعمل

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر نصر فرید الواصل نے بتایا ہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے ان پر اسرائیل کو قدرتی گیس کی فروخت کے حق میں فتویٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ایک عربی ٹی وی ’’الحیاۃ ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق مصری مفتی اعظم نے کہا ہے کہ حسنی مبارک کی طرف سے ان پر کئی مرتبہ یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قاہرہ اور تل ابیب کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں کے حق میں مہر تصدیق ثبت کریں اور اسلام کی رو سے انہیں جائز قرار دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی

امریکی پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی کے بعد پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہو رہے ہیں اور امریکی پادری کی مذمت کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بھی امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس ملعون پادری کے خلاف کاروائی کرے کیونکہ اس نے یہ شرمناک حرکت کر کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکافرت کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قاری محمد عبد اللہؒ کی وفات

گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحبؒ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا، ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم صاحبؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سر گرم حضرات میں سے تھے اور مفتی شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

قومی خود مختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادت

مسلسل ڈرون حملوں نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خود مختاری پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا رکھا تھا مگر شیخ اسامہ بن لادن شہید ؒ کے حوالہ سے ’’ایبٹ آباد آپریشن ‘‘نے اس سوالیہ پہلو کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے اور پوری قوم وطن عزیز کی خود مختاری کی اس شرمناک پامالی پر چیخ اٹھی ہے۔ پوری قوم مضطرب ہے، بے چین ہے اور ایک ’’اتحادی‘‘ کی اس حرکت پر تلملا رہی ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آرہا اور وہ پالیسیاں جن کو ملک کی عوام نے گزشتہ الیکشن میں کھلے بندوں اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

سائنسی ایجادات، نعمت یا مصیبت؟

بھارتی پنجاب میں آئینی طور پر قائم ’’خواتین کمیشن‘‘ کی خاتون چیئر پرسن گورودیوکور سنگھ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ: ’’تقریباً نوے فیصد نئے شادی شدہ مرد و عورت صرف اس لیے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکا یا اس کے گھر والے سمجھتے ہیں کہ دلہن فون پر کسی دوسرے مرد سے بات کر رہی ہے جبکہ بیشتر معاملات میں حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سسرالی معاملات میں اپنے والدین سے مشورہ کر رہی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میں رسول اکرمؐ کے موئے مبارک کی زیارت

خانقاہ سراجیہ شریف میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد اور ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف بزرگوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا اور خواجہ صاحب نے سب سے بڑی شفقت یہ فرمائی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت سے شاد کام کیا جو خانقاہ شریف میں پورے احترام و انتظام کے ساتھ محفوظ ہیں اور ہر سال ۲۶ رمضان المبارک کے دن خانقاہ میں آنے والے حضرات کو ان کی زیارت کرائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۹ء

کینیڈا کی طرف سے ایٹمی مواد کی فراہمی کا مسئلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات

قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا مفتی محمود نے گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ کینیڈا نے کراچی کے ایٹمی بجلی گھر کے لیے ایندھن وغیرہ سے جو انکار کیا ہے وہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی اتنی کامیاب نہیں جتنی کہ اس کی تشہیر کی جاتی ہے چنانچہ میں نے ایک موقع پر قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث کرنا چاہی تھی مگر حکومت اس مسئلہ پر بحث سے گریزاں ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۵ جنوری ۱۹۷۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۷

وزیر اوقاف پنجاب رانا اقبال احمد خان اور نظام شریعت کنونشن کی کسک

پنجاب کے وزیر اوقاف رانا اقبال احمد خان نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں کہا کہ نظام شریعت کانفرنس دراصل حکومت کے خلاف ایک سازش تھی جس میں مولانا مفتی محمود نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے (روزنامہ امروز، لاہور ۵ جنوری ۱۹۷۷ء)۔ معلوم ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والا کل پاکستان نظام شریعت کنونشن صوبائی وزیر اوقاف کی کمزوری بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۷ء

وفاقی وزیر جناب کوثر نیازی اور دینی مدارس

یادش بخیر جناب کوثر نیازی وفاقی وزیر مذہبی امور طویل عرصہ کی معنی خیز خاموشی کے بعد گزشتہ دنوں پشاور میں چہکے ہیں اور ان کی گفتگو کا عنوان وہی پرانا ہے جو ان کے ذمہ ہے یعنی دینی مدارس اور حکومت کی پالیسی۔ نیازی صاحب نے جو کچھ فرمایا روزنامہ نوائے وقت ۳ جنوری ۱۹۷۷ء کے مطابق اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: مولانا مفتی محمود کا یہ الزام درست نہیں ہے کہ حکومت دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا چاہتی ہے۔ دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے سے اخراجات بڑھ جائیں گے اور تعلیمی بجٹ کو نقصان پہنچے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۱۹۷۷ء

جمعیۃ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء و نظماء کا مشترکہ اجلاس ۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ بروز بدھ صبح ساڑھے دس بجے دارالعلوم حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر غور و خوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، اس لیے اجلاس کی صدارت نائب امیر اول حضرت مولانا محمد شریف وٹو مدظلہ العالی نے فرمائی اور مندرجہ حضرات اجلاس میں شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۱۹۷۷ء

شراب پر پابندی کا بل اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے حوالہ سے ایک افسوسناک خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری کہ قانون سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ایک غیر مسلم رکن ڈاکٹر رامیش کمار نے ملک میں شراب پر پابندی کے بارے میں بل پیش کیا جو مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رامیش کمار کا تعلق ہندو مذہب سے ہے اور وہ ایک عرصہ سے شراب پر پابندی کے حوالہ سے مسلسل آواز اٹھاتے چلے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ شراب اسلام کی طرح ہندو مذہب میں بھی حرام ہے مگر پاکستان میں غیر مسلموں کے نام پر شراب کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے جو درست نہیں ہے، اسے ختم ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۱۹ء

دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تھنک ٹینک نے بتایا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جو اس وقت ایک ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور آئندہ بیس سالوں میں دو ارب بیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ یہ بات جو مسلمانوں کی افرادی قوت میں اضافے کے حوالہ سے مسلمانوں کے لیے خوش کن ہے مغربی ممالک کے لیے اسی درجہ میں قابل تشویش بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

توہین رسالتؐ کا قانون اور وزارت قانون کی سمری

وزارت قانون کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پر وزیر اعظم کے دستخط ثبت ہو جانے کے ساتھ وہ تکلیف دہ بحث و مباحثہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے جو ایک عرصہ سے توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالہ سے قومی حلقوں میں جاری تھا اور جس میں عالمی حلقے اور لابیاں بھی بھرپور شرکت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اس سمری کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وزارت قانون سے مختلف اطراف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا تھا کہ وہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون پر کیے جانے والے اعتراضات کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

مبینہ دہشت گردی کے اصل اسباب

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ فروری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے جاپان کے تین روزہ سرکاری دورے کے موقع پر جاپانی سرمایہ کاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے دہشت گردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور عالمی امن کو تقویت حاصل ہو گی۔‘‘ جہاں تک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بیرونی سرمایہ کاروں کو توجہ دلانے کا مسئلہ ہے یہ ملکی معیشت کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے حکمرانوں کی کوششوں کو ہم سراہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

پنجاب میں مسجد مکتب اسکیم کا مکمل خاتمہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر رانا محمد اقبال خان نے مسجد مکتب اسکیم کی بندش پر وزیر تعلیم مجتبیٰ شجاع الرحمن کو ہدایت کی ہے کہ اس پر نظر ثانی کی جائے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی وارث کلو، سعید اکبر نوانی، علی اصغر منڈا اور دیگر ارکان نے اسمبلی میں اس بات پر احتجاج کیا کہ مسجد مکتب سکیم کو صوبائی محکمہ تعلیم نے بند کر دیا ہے جو غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

سوات میں دارالقضاء کا قیام

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق سوات میں دارالقضاء کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ صوبائی سطح پر دار القضاء کے قیام کا مطالبہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد نے کیا تھا اور پھر تحریک طالبان اسلام کے مولوی فضل اللہ صاحب نے اس کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی نے ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ باقاعدہ طور پر منظور کیا تھا - - - مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

پاپائے روم کا بے جا غصہ و اضطراب

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر پاکستان میں توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’اس قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔‘‘ جہاں تک قانون کے غلط طور پر استعمال ہونے کا تعلق ہے ہم اپنے مختلف مضامین میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ یہ محض بہانہ ہے، اس لیے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کے غلط استعمال کا تعلق صرف اس قانون سے نہیں ہے بلکہ دوسرے بہت سے قوانین کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

قومی پالیسیوں کا رخ متعین کیا جائے

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور اس پر متنوع قسم کے تبصرے سامنے آرہے ہیں، اس قتل کو افسوسناک قرار دینے والے بھی موجود ہیں اور اس پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنے والے بھی کم نہیں ہیں، مگر یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس واقعہ نے صورتحال بالکل بدل ڈالی ہے اور نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پالیسیوں اور اندازوں میں ہلچل کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے حوالہ سے قارئین سے ایک اہم درخواست

ایک سال قبل مولانا صالح محمد حضروی، جناب صلاح الدین فاروقی آف ٹیکسلا اور راقم الحروف نے پاکستان کی دینی تحریکات کے بارے میں تاریخی ریکارڈ جمع کرنے کے ایک پروگرام کا اعلان کیا تھا جس کے پہلے مرحلہ میں ہفت روزہ خدام الدین لاہور اور ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی فائلیں مکمل کرنے پر محنت کی گئی اور اس میں خاص طور پر صلاح الدین فاروقی صاحب نے خاصی ہمت کر کے دونوں رسالوں کی فائلوں کو تقریباً مکمل کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۱۹ء

نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

گزشتہ ماہ کے آخری عشرہ کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اکادمی کے تحت ایک اہم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اقدامات کا مرحلہ وار جائزہ لیا گیا اور کانفرنس کی طرف سے اس سلسلہ میں سفارشات پیش کی گئیں۔ شریعہ اکادمی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء اس وقیع علمی و تحقیقی کاوش پر شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے علمی و فکری سطح پر ایک سنجیدہ کام دیکھنے میں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مارچ ۲۰۱۹ء

جمعہ کی تعطیل اور نماز جمعہ کا وقفہ

جمعہ کے روز ہفتہ وار تعطیل کا مسئلہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور دینی حلقوں کا ایک عرصہ سے مطالبہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل جمعہ کے روز کی جائے جو فضیلت کا دن ہے اور نماز جمعہ اور خطبہ و خطاب وغیرہ اہتمام کے ساتھ پڑھنے اور سننے کے لیے بھی اس سے آسانی رہتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس سلسلہ میں قومی حلقوں میں بحث چلی تو بعض حضرات نے سوال اٹھایا کہ کیا جمعہ کے روز چھٹی کا قرآن و حدیث میں کوئی حکم موجود ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۹ء

حضرت مولانا مرغوب الرحمنؒ

جمعرات کا دن اسلام آباد آنے جانے میں گزرا، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوہ اکیڈمی میں ظہر کے بعد اور پھر مغرب کے بعد دو لیکچر تھے، صبح نصرۃ العلوم میں سبق پڑھا کر روانہ ہوا اور رات بارہ بجے کے لگ بھگ واپسی ہوئی۔ اس دوران اخبارات نہ دیکھ سکا، جمعہ کے روز صبح موبائل فون چیک کیا تو اس میں ایک میسج کے ذریعے کسی دوست نے دار العلوم دیوبند (بھارت) کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب کی وفات کی خبر دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۱ء

فرانس میں سڑکوں پر نماز

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی کے بعد مساجد کے باہر سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر بھی پابندی لگانے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ سڑکوں پر نماز کی ادائیگی قابل قبول نہیں اور مساجد بھر جانے کے بعد سڑکوں پر نماز کے لیے صف بندی فرانس کی سیکولر روایات کے خلاف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۱ء

تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کا پروگرام

۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ؐکے مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کی اور اس میں تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے قائدین اور راہنماؤں نے شرکت کی۔ ایک عرصہ کے بعد مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں کا اس قدر بھرپور اور نمائندہ اجتماع دیکھنے میں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۱ء

سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل

سینٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۱۹ء

سوسائٹی میں مذہبی اقدار کی واپسی اور پاپائے روم

روزنامہ پاکستان لاہور ۹ نومبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے اسپین کی حکومت کی طرف سے ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی اجازت دینے پر شدید تنقید کی ہے اور روایتی خاندانی نظام کی حمایت کرتے ہوئے اسپین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی قانونی اجازت دینے کے قوانین پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

یورپ کو اصل خطرہ دہشت گردی سے یا بنیاد پرستی سے؟

سہ روزہ دعوت دہلی کے یکم نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پروفیسر ایچ اے ہیلر نے جو ایک برطانوی یونیورسٹی میں نسلی تعلقات کے تحقیقی مرکز کے سر براہ ہیں ’’یورپ کے مسلمان‘‘ نامی اپنی کتاب میں کہا ہے کہ:
’’یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی بحث سکیورٹی کے مسائل سے شروع ہوئی تھی اور اس کا تناظر القاعدہ جیسے گروپوں کا طرز عمل تھا۔ یورپی باشندوں کو خوف تھا کہ انتہاپسند مسلم گروپوں کی پرتشدد سر گرمیاں یورپ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

سوڈان میں مسیحی ریاست کا منصوبہ

انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کو ریفرنڈم کے ذریعے الگ کر کے ایک عیسائی ریاست قائم کرنے کے عمل کو ابھی چند سال ہی گزرے ہیں کہ سوڈان میں دارفور کے جنوبی علاقہ کو سوڈان سے الگ کر کے ایک الگ مسیحی ریاست کی شکل دینے کے منصوبہ پر کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ سوڈان رقبہ کے لحاظ سے براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے اور مسلمانوں کا تناسب ۷۵ فیصد بتایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

طالبان کا وجود اور ان کے ساتھ مذاکرات

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیتا تو اسے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہوسٹن کی ایشیا سوسائٹی ٹیکس سنٹر میں خطاب کے دوران سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، طالبان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

دیوبندی بریلوی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی مبینہ مہم

عالمی استعمار کے ایجنڈے کا ایک حصہ یہ ہے کہ پاکستان میں ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی کا اسلام‘‘ کے نام سے خودساختہ تفریق کو اجاگر کر کے قومی معاملات میں دیوبندی مکتب فکر کو کارنر کرنے کی کوشش کی جائے اور دیوبندی علماء کو عام مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول اور اچھوت بنا دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ

مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس کا یہ تجزیہ نیا نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ گہری وابستگی اور دفاعِ اسلام کے والہانہ جذبہ کا سب سے بڑا سبب عالم اسباب میں دینی مدارس ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے نمایاں دیوبندی مکتب فکر ہے جو دینی روایات و اقدار کے ساتھ عام مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا مسلسل پہرہ دے رہا ہے اور مغرب کی ثقافت و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی بالادستی اور تسلط کے خلاف بھی اس نے ہر دور میں عَلمِ بغاوت بلند کیے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

سعودی عرب اور پاکستان سے امت مسلمہ کی توقعات

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان آل سعود پاکستان اور بھارت کا دورہ کر کے واپس تشریف لے جا چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کے بہت سے معاشی معاہدات کے بعد اب اس خطہ میں نئی اقتصادی منصوبہ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام کے وقت سے ہی سعودی عرب کی پر خلوص دوستی، معاونت بلکہ بہت سے عالمی معاملات میں شراکت حاصل رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ فروری ۲۰۱۹ء

جہاد، دہشت گردی اور جد و جہد آزادی میں فرق

آزاد کشمیر کے حالیہ سفر میں مجھے ۲۲ ستمبر کو باغ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے ساتھ گفتگو کا موقع بھی ملا۔ میری گفتگو کے بعد ایک وکیل صاحب نے دلچسپ سوال کیا کہ عام طور پر تاثر یہ ہے کہ علماء دیوبند عمومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرتے اور دہشت گردوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ کی حمایت نہیں کر رہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۰ء

جعلی ڈگریاں، معاشرتی ناسور

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی پڑتال اور جعلی ڈگریوں کی نشاندہی کا سلسلہ جاری ہے جس پر ملک کی سیاست میں ایک بھونچال کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ جعلی ڈگریوں کا یہ معاملہ صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر قومی شعبوں میں بھی اس کے اثرات نظر آرہے ہیں اور مختلف اداروں میں جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازموں کی برخواستگی کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

طلاق، ایک متعدی بیماری

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۷ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق طبی اور نفسیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا میں طلاق ایک متعدی بیماری کی طرح پھیل رہی ہے جس کی زد میں دوست احباب، خاندان اور اپنے پرائے سب آرہے ہیں۔ اس سماجی بیماری کی طرف اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کے بعض خطوں میں طلاق کی شرح ۷۵ فی صد تک پہنچ چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

سعودی عرب میں نکاح صغیرہ کی ممانعت

روزنامہ اردو نیوز جدہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کی وزارت انصاف شادی کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر ۱۷ برس مقرر کرنے والی ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔ المدینہ اخبار نے بتایا ہے کہ عدالتی مشیر ڈاکٹر صالح اللحیدان کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف اس قرارداد کا جائزہ لے رہی ہے، جلد ہی یہ قرار داد جاری کر دی جائے گی، اس کے بموجب ۱۷ برس سے کم عمر کی لڑکی کو شادی کی اجازت نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

عالم اسلام کے تکفیری گروہ ۔ خوارج کی نشاۃ ثانیہ

جدہ سے شائع ہونے والے روزنامہ اردو نیوز نے ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم و تربیت نے سعودی اسکولوں میں انتہا پسندانہ افکار پھیلانے پر دو ہزار سے زائد اساتذہ کو برطرف کر دیا ہے۔ مشیر معاون وزیر داخلہ برائے فکری سلامتی ڈاکٹر عبد الرحمن الہدیق نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اساتذہ اسباق میں نصاب تعلیم کے اہداف و مقاصد کو پس پشت ڈال کر انتہا پسندانہ افکار اور تشدد پر مبنی خیالات پھیلا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

دیوبندی مدارس اور دہشت گردی

روزنامہ جنگ ملتان کی خبر کے مطابق امریکی کانگرس کی خارجہ امور کمیٹی میں دہشت گردی سے متعلقہ سب کمیٹی کے رکن ایڈورکسے نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دیوبندی مدارس کو بند کرے کیونکہ وہ گریجویٹ دہشت گردوں کی کھیپ پیدا کر رہے ہیں اور امریکہ اور بھارت جیسے جمہوری ملکوں پر حملوں کے لیے دہشت گرد تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ۸۰۰ دیوبندی مدارس ہیں جن کا جہاد پر فوکس ہے اور یہ مدارس نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی تعلیم اور دہشت گرد حملوں کی تربیت دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۰ء

Pages