مقالات و مضامین

’’عصر حاضر میں اجتہاد ۔ چند فکری و عملی مباحث‘‘

اجتہاد کے حوالے سے اس وقت عام طور پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں: (۱) ایک یہ کہ دین کے معاملات میں جتنا اجتہاد ضروری تھا وہ ہو چکا ہے، اب اس کی ضرورت نہیں ہے، اس کا دروازہ کھولنے سے دین کے احکام و مسائل کے حوالے سے پنڈورا بکس کھل جائے گا اور اسلامی احکام و قوانین کا وہ ڈھانچہ جو چودہ سو سال سے اجتماعی طور پر چلا آرہا ہے، سبوتاژ ہو کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔ (۲) جب کہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اجتہاد آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے، دین کے پورے ڈھانچے کو اس عمل سے دوبارہ گزارنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۰۷ء

ترکی میں احادیث کی نئی تعبیر و تشریح ۔ علمی شخصیات و مراکز کی خدمت میں ایک اہم مکتوب

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مزاج گرامی؟ برادر مسلم ملک ترکی کے حوالے سے ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے جو اس عریضہ کے ساتھ منسلک ہے کہ اس کی وزارت مذہبی امور نے احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور نئی تعبیر و تشریح کے کام کا سرکاری سطح پر آغاز کیا ہے جو اس حوالے سے یقیناً خوش آئند ہے کہ ترکی نے اب سے کم و بیش ایک صدی قبل ریاستی و حکومتی معاملات سے اسلام اور مذہبی تعلیمات کی لاتعلقی کا جو فیصلہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۰۸ء

امت مسلمہ کو درپیش فکری مسائل: چند اہم گزارشات

’’عصر حاضر میں اسلامی فکر ۔ چند توجہ طلب مسائل‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون کم و بیش ربع صدی قبل تحریر کیا گیا تھا لیکن اس کی اہمیت و افادیت آج بھی موجود ہے بلکہ مسائل کی فہرست اور سنگینی میں کمی کے بجائے اس دوران میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر مسائل خود میرے مطالعہ کا موضوع رہے ہیں اور بعض مسائل پر کچھ نہ کچھ لکھا بھی ہے مگر یہ خواہش رہی ہے کہ ایجنڈا اور تجاویز کے طور پر ایسے مسائل کی ایک مربوط فہرست سامنے آجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

حضرت لاہوریؒ کی جدوجہد و خدمات کی ایک جھلک

شیرانوالہ گیٹ لاہور میں عالمی انجمن خدام الدین کا دو روزہ سالانہ اجتماع آج شروع ہوگیا ہے جو کل شام تک جاری رہے گا اور اس میں سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کے مشائخ اور متوسلین کے علاوہ علماء کرام اور کارکنوں کی بھرپور شرکت رہے گی، ان شاء اللہ تعالٰی۔ اجتماع کے اشتہار میں اسے ۱۰۲ واں اجتماع بتایا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انجمن خدام الدین ایک صدی مکمل کر کے دوسری صدی میں داخل ہو گئی ہے اور یہ بات بہرحال خوشی کی ہے کہ اس کا تسلسل اور سرگرمیاں بدستور جاری ہیں، اللہ تعالٰی ترقیات اور ثمرات سے ہمیشہ بہرہ ور فرماتے رہیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۱۹ء

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

آج کی ایک خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

بلاول بھٹو زرداری سے چند گزارشات

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی جگہ ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت مکمل کرنے تک ان کے والد جناب آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جبکہ مخدوم امین فہیم کو آئندہ وزارت عظمی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی آئندہ قیادت کے خدوخال کچھ نہ کچھ واضح ہوگئے ہیں۔ چیئرمین شپ کو بھٹو خاندان میں رکھنا ہمارے خطے کی روایتی مجبوری ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

جامعہ حفصہ کی تعمیر نو اور ’’تحریک طالبان و طالبات اسلام‘‘

سپریم کورٹ کے حکم پر لال مسجد کے کھل جانے کے بعد سے وہاں نماز وغیرہ کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔ عدالت عظمٰی نے لال مسجد کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کا ازخود نوٹس لینے کے بعد اس سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے دائر کی جانے والی رٹ اور غازی عبد الرشید شہید کے خاندان کی طرف سے دی جانے والی درخواستوں کو یکجا کر دیا ہے اور ان سب پر مجموعی طور پر کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔ جس میں لال مسجد کے دوبارہ کھولے جانے اور جامعہ حفصہ کی ازسرنو تعمیر کا معاملہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۷ء

پاکستان اسٹیل ملز اور عدالت عظمیٰ

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات سے پہلے جب ملک میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تو وہ میری سیاسی اور خطابتی زندگی کا ابتدائی دور تھا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز سے عقیدت زیادہ تھی جو اب بھی ہے، ان کی سیاسی جدوجہد اور سیاسی افکار سے سب سے زیادہ متاثر تھا اور اسی مناسبت سے استعمار دشمنی کی بات کسی طرف سے بھی ہو، اچھی لگتی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کا اجتماعی ذوق بھی یہی تھا (جو اب پس منظر میں چلا گیا ہے)۔ اس حوالے سے لیفٹ کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہمارا میل جول زیادہ رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۰۶ء

عدلیہ کی بحالی اور دستور و قانون کی بالادستی

سپریم کو رٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب اعتزاز احسن اور وکلاء تحریک کے دیگر قائدین جسٹس (ر) طارق محمود اور جناب علی احمد کرد دوبارہ نظر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات پھر واضح ہوگئی ہے کہ صدر پرویز مشرف اور ان کی حکومت دستور کی بالادستی اور پی سی او کے تحت معزول کیے جانے والے معزز جج صاحبان کی بحالی کے بارے میں ملک بھر کے قانون دانوں اور رائے عامہ کی بات پر توجہ دینے کے لیے ابھی تک تیار نہیں۔ لیکن کیا اس طرح وکلاء کی قیادت کو ان سے دور رکھ کر اس تحریک کو دبایا جا سکے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۸ء

وکلاء اور علماء کے مابین ایک ملاقات کا احوال

وکلاء کی تحریک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جج صاحبان کی بحالی کے لیے نئی حکومت جن عزائم کا اظہار کر رہی ہے، پوری قوم کو ان میں پیشرفت کا بے چینی کے ساتھ انتظار ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ زبردستی خالی کرانے کی بھونڈی حرکت نے جہاں نومنتخب وزیر اعظم کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے سے معذرت کرنے پر مجبور کیا ہے، وہاں وکلاء کی تحریک کے لیے بھی مہمیز کا کام دیا ہے اور ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس محترم جناب افتخار محمد چودھری کے اس بیان نے ان کی عزت و وقار میں مزید اضافہ کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۸ء

عدلیہ کی بحالی اور اسلام کی بالادستی

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا عبد الحق خان بشیر نے، جو میرے چھوٹے بھائی اور گجرات کے محلہ حیات النبی میں جامع مسجد امام ابوحنیفہؒ کے خطیب ہیں، ۷ فروری جمعرات کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کی رہائش گاہ پر مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کی ایک غیر رسمی مشاورت کا اہتمام کیا۔ ایجنڈا دو نکات پر مشتمل تھا: (۱) ایک یہ کہ عدلیہ کی بحالی اور دستور کی بالادستی کے لیے جو تحریک وکلاء کے فورم سے چل رہی ہے اس میں دینی حلقوں کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۰۸ء

جامعہ حفصہ کا معاملہ: مذاکرات کے مراحل

اب جبکہ لال مسجد اسلام آباد، جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کا معاملہ مسلح حکومتی آپریشن کے بعد اس انجام کو پہنچ چکا ہے جو ملک کی مقتدر قوتوں کی خواہش تھی اور جس کے لیے گن گن کر دن گزارے جا رہے تھے، اس وقت جب میں اسلام آباد ہی میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، غازی عبد الرشید اپنی والدہ محترمہ اور دیگر بہت سے رفقاء سمیت جام شہادت نوش کر چکے ہیں، اور لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف سرکاری فورسز کا آپریشن آخری مرحلہ میں ہے جس کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ چند گھنٹوں میں اپنے آخری نتیجے تک پہنچنے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲، ۱۶، ۱۷ جولائی ۲۰۰۷ء

سر جھکا کر اور سر اٹھا کر چلنے والوں کا فرق

چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی آپریشن روم کے دروازے سے باہر جھانک کر مریض کے رشتہ داروں کو یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی ہے اور اس نے اب سانس لینا شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اعلان سے قبل پوری قوم سکتے کے عالم میں تھی اور کان اسلام آباد کی طرف لگے ہوئے تھے کہ وہاں سے کیا خبر آتی ہے؟ عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ نے قوم کا رخ مایوسی سے امید کی طرف پھیر دیا ہے جس پر فل کورٹ کے تمام ارکان پوری قوم کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ میں وفاق المدارس کی آئینی درخواست

میں اس وقت جدہ میں ہوں، پرسوں ۱۳ اگست کو عشاء کی نماز کے وقت یہاں پہنچا ہوں، یوم آزادی یہیں گزارا ہے اور آج ۱۵ اگست کو مدینہ منورہ روانہ ہونے سے قبل یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ مولانا عبد العزیز کے بھانجے عامر صدیق اور ہمشیرگان محترمات کی پریس کانفرنس کی رپورٹ میں نے سفر کے دوران پڑھی ہے جس میں انہوں نے مولانا عبد العزیز کی طرف سے اپنے وکیل کی تبدیلی اور وفاق المدارس العربیہ کی جدوجہد پر اطمینان کے اظہار کا اعلان کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان کے بعض نمائندے ان کے اور علمائے کرام کے درمیان اختلافات اور غلط فہمیوں کا باعث بنے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۰۷ء

اکابر علمائے کرام کا مشترکہ اعلامیہ

ملک کے تیس سرکردہ علمائے کرام نے، جن میں مختلف مکاتب فکر کے زعماء شامل ہیں، اپنے مشترکہ اعلامیہ میں ملک کی عمومی صورتحال کا جو تجزیہ پیش کیا ہے اور اس کے حل کے لیے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ پاکستان کے ہر محب وطن شہری کے دل کی آواز ہے۔ آپ ملک کے کسی بھی حصے میں کسی ایسی جگہ پر چلے جائیں جہاں عام لوگ مل بیٹھ کر تبادلہ خیالات کیا کرتے ہیں، آپ کو اسی قسم کی باتیں سننے کو ملیں گی اور خیالات کی یکسانی اور ہم آہنگی کا یہ منظر آپ کو ہر جگہ اور ہر سطح پر نظر آئے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

آزادکشمیر کی دینی و سیاسی قیادتوں سے درخواست

میں آج آزاد کشمیر کے ایک بڑے شہر میں آپ حضرات کے سامنے اپنے دل کے درد کا ایک بار پھر اظہار کر رہا ہوں۔ اب سے ایک ماہ قبل منگ اور راولاکوٹ کے اجتماعات میں یہ گزارشات پیش کر چکا ہوں مگر صورتحال جوں کی توں ہے اس لیے دوبارہ عرض کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی صورتحال پر ایک سو سے زیادہ دن گزر چکے ہیں، لاکھوں لوگ آزاد نقل و حرکت کی سہولتوں سے محروم ہیں، ان کے شہری اور سیاسی حقوق معطل ہیں، جبر و تشدد کی فضا ہے، آزادیٔ رائے پر مسلسل پہرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۱۹ء

کرتارپور راہداری اور قادیانی مذہب

ان دنوں کرتارپور راہداری کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر اخبارات اور سوشل میڈیا پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر نارووال سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کرتارپور ایک جگہ کا نام ہے جہاں تقسیم ملک سے قبل دونوں طرف آنے جانے کا راستہ ہوتا تھا۔ یہ راستہ تقسیم ہند کے وقت بند ہوگیا تھا جسے گزشتہ دنوں کھول دیا گیا ہے اور ۹ نومبر کو پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان نے اس کا افتتاح کیا ہے۔ یہاں سکھوں کا ایک بڑا گوردوارہ ہے جو ان کے اہم اور مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۱۹ء

جامعہ حفصہ کی طالبات کی جدوجہد ۔ چند سوالات

جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات کے مطالبات اور جدوجہد کے حوالے سے معاملات جس رخ پر آگے بڑھ رہے ہیں اس سے کئی سنجیدہ سوالات نے جنم لیا ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات اسلام آباد میں ایک مسجد کے گرائے جانے اور متعدد دیگر مساجد کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے گرانے کا نوٹس جاری ہونے پر بطور احتجاج شروع ہوئی تھی جس میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے ایک سرکاری لائبریری پر احتجاجاً قبضہ کر لیا تھا۔ طالبات اور ان کے سرپرست مولانا عبد العزیز اور مولانا غازی عبد الرشید ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اپریل ۲۰۰۷ء

پاکستانی خواتین کے حقوق اور صدر مشرف

نیویارک میں پاکستانی خواتین کے اجتماع سے صدر پرویز مشرف کا خطاب ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے صدر پرویز مشرف کی نیویارک آمد کے موقع پر یہاں کے بعض پاکستانی حلقوں نے ’’خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا جس میں صدر پاکستان کے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ خواتین کے حقوق و مسائل کے حوالے سے صدر محترم پاکستان میں جو کوششیں کر رہے ہیں یا حکومت پاکستان جو اقدامات کر رہی ہے، ان سے عالمی سطح پر لوگوں کو متعارف کرایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۵ء

جامعہ حفصہ کا مسئلہ اور دینی مدارس کا مستقبل

مولانا عبد العزیز کی گرفتاری کے بعد لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا حکومت کے ساتھ تنازع ایک لحاظ سے اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے اور ان کے نائب مولانا عبد الرشید غازی کی طرف سے خود کو حکومت کے حوالے کرنے کی مشروط پیشکش نے حکومت کے ساتھ ان کی مسلح مزاحمت کے باقی ماندہ امکانات کو بھی ختم کر دیا ہے۔ جب ان دونوں بھائیوں نے چند ماہ قبل اپنے بعض مطالبات کے لیے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تھا، اس وقت ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں اور ان کے خیر خواہوں کی طرف سے انہیں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ حکومت کے ساتھ اس طرح کی محاذ آرائی کا طریقہ درست اور قابل عمل نہیں ہے، اس لیے وہ اسے ترک کر دیں اور ملک کی علمی و دینی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی مشاورت کے ساتھ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۰۷ء

قرآن کریم اور رمضان المبارک کی برکات

اس سال رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور دیگر درجنوں دینی مراکز میں تراویح میں ختم قرآن کریم کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات میں گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، ان کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ رمضان المبارک کا تعارف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قرآن ہی کے حوالے سے کرایا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم اتارا گیا، اس لیے قرآن کریم اور رمضان المبارک آپس میں لازم ملزوم ہیں اور ان کا یہ جوڑ اس قدر مضبوط ہے کہ نہ صرف یہ کہ رمضان المبارک میں قرآن کریم اتارا گیا بلکہ اس مہینے میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اکتوبر ۲۰۰۶ء

کیا سزائے موت کا قانون ختم کیا جا رہا ہے؟

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۱ جون ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سزائے موت کا قانون برطانیہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدوں میں ایک رکاوٹ ہے، حکومت پاکستان نے تعزیرات پاکستان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرون ملک پاکستانیوں کی ہر صورت حوالگی چاہتا ہے تاکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۹ء

قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خلاف بل

کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایوان میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ایک بل پیش کیا جو مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ کے بعد کسی وقت بھی وہ اسمبلی میں زیر بحث آسکتا ہے، سودی نظام کے خاتمہ کے لیے طویل عرصہ سے ملک میں مختلف سطحوں پر جدوجہد جاری ہے: دستور پاکستان میں حکومت پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سودی نظام ختم کر کے ملک کے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرے، عدالت عظمیٰ ملک میں رائج سودی قوانین کو خلافِ دستور قرار دیتے ہوئے حکومت کو انہیں ختم کرنے کی ہدایت کر چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۹ء

آزادی مارچ کی سیرت کانفرنس میں حاضری

۹ نومبر کا دن خاصا مصروف گزرا، رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کی وجہ سے جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق کی چھٹی تھی اس لیے صبح نماز فجر کے بعد ہی سفر شروع کر دیا اور احباب کا ایک قافلہ بھی ساتھ بن گیا۔ حافظ نصر الدین خان عمر، حافظ شاہد میر، حافظ اسامہ قاسم، حافظ محمد قاسم، حافظ فضل اللہ اور حافظ محمد بن جمیل خان شریک سفر تھے۔ ہم گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر دوپہر تک ٹیکسلا پہنچے جہاں برادرم صلاح الدین فاروقی نے حضرت مولانا سید نفیس شاہؒ کی یاد میں قائم مسجد نفیس میں ظہر کے بعد سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نشست کا اہتمام کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۱۹ء

کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو خون آلود مٹی قرار دیتے ہوئے خطے سے نکلنے کا عہد کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی خون آلود مٹی چھوڑ دے گا، امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بہت امریکی سروسز کے ممبران مارے گئے، امریکہ کو اب مزید دنیا کے پولیس مین کے طور پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۹ء

اتاترک کی تقلید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی مصطفی کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر کسی ابہام کے بغیر اپنی پالیسی ترجیحات کا جو دوٹوک اعلان کیا تھا، وہ اس پر بدستور قائم ہیں اور ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اعلانات کا تسلسل اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان کی زبان پر اقتدار کے پہلے روز مصطفی کمال اتاترک کا نام محض اتفاقی طور پر نہیں آ گیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے شعور اور عزائم کا ایک بھرپور پس منظر کارفرما تھا۔ اس لیے دینی اقدار و شعائر اور اسلام کے روایتی ڈھانچے کے حوالے سے وہ وقتاً فوقتاً جو کچھ بھی کہتے ہیں، ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

عالمی یہودی کانگریس سے صدر مشرف کا خطاب

صدر جنرل پرویز مشرف نیویارک کے ہنگامہ خیز دورے سے واپس پہنچ کر اسلام آباد میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں مگر نیویارک میں ان کے دورے کے حوالے سے مختلف امور پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کی نجی محفلوں کے علاوہ نیویارک سے شائع ہونے والے مقامی اردو اخبارات میں صدر پرویز مشرف کی باتوں پر دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اخبارات اگرچہ زیادہ تر اشتہارات پر مشتمل ہوتے ہیں اور مساجد اور اسٹوروں میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں لیکن پاکستانی کمیونٹی کے ایک بڑے حصے میں پڑھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء

جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ: چند گزارشات

صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ ماہ امریکہ جا رہے ہیں جہاں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے، متعدد عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کریں گے اور اخباری اطلاعات کے مطابق وہ یہودیوں کی ایک آرگنائزیشن کے تحت پروگرام میں بھی شریک ہوں گے جہاں وہ اسلام میں اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پر گفتگو کریں گے۔ جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس اس حوالے سے خاصا اہم ہے کہ اس میں اقوام متحدہ کے نظام میں بعض اہم اصلاحات زیر غور آنے والی ہیں جن میں سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں توسیع بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۰۵ء

حجاب پر پابندی — ثقافتی جنگ کا ایک مورچہ

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۰ مئی ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی دو خبریں ملاحظہ فرمائیں: ’’فرانس مسلمان خواتین کے پردے پر پابندی سے متعلق اقدامات میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا، فرانس کی سینٹ نے بچوں کو سکول لانے والی ماں کے اسکارف پہننے پر بھی پابندی کا قانون منظور کر لیا، فرانس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں مسترد ہونے والے بل کو سینٹ نے ۱۸۶ ووٹوں سے پاس کیا جب کہ بِل کی مخالفت میں ۱۰۰ ووٹ پڑے، ۱۵۹ اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے آنے والی خواتین کے اسکارف پر پابندی سے متعلق بل دائیں بازو کی اسلام مخالف ری پبلکنز پارٹی نے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۹ء

قادیانیت ہدف کیوں؟

صدر جنرل پرویز مشرف کے پرسنل سیکرٹری اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جناب طارق عزیز کے حوالے سے ایک بار پھر قادیانیت کا مسئلہ منظر عام پر آیا ہے اور لاہور کے بعض علمائے کرام کی طرف سے اس مطالبہ نے اب تک زیر لب ہونے والی باتوں کو باقاعدہ خبر کی زبان دے دی ہے کہ جناب طارق عزیز کے والد بزرگوار کا جنازہ پڑھنے والے مسلم حکام کو تجدید ایمان کرنی چاہیے کیونکہ وہ قادیانی تھے۔ اس کے جواب میں طارق عزیز صاحب کے فرزند شعیب عزیز کا بیان آیا ہے کہ ان کی فیملی کا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۰۳ء

سانحہ ساہیوال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

سانحۂ ساہیوال کے بعد جس سوال نے قوم کو سب سے زیادہ پریشان کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ کیا سرکاری اہل کاروں کو یہ کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ جسے چاہیں مشکوک سمجھ کر دہشت گرد قرار دیں اور پھر اسے گولیوں سے بھون کر رکھ دیں۔ جو لوگ اس سانحہ میں فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں ان میں سے ایک فیملی کو ابتدائی تحقیقات میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور ذیشان کے بارے میں ابھی تک صرف شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تھا، اس کے دہشت گرد ہونے کا کوئی ثبوت ابھی تک پیش نہیں کیا جا سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۹ء

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی

ایک عرصہ سے کان جو خبر سننے کے لیے ترس رہے تھے آج اس کا آغاز ہو گیا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے پروگرام کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت آدھی امریکی فوج پہلے مرحلہ میں واپس جائے گی اور باقی نصف فوج کی واپسی کا بھی جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۲ دسمبر کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں جو رائٹرز اور اے ایف پی کے حوالہ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۹ء

دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ

جب عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طبل بجایا گیا تھا اور تین درجن کے لگ بھگ ممالک یہ ڈھول بجاتے ہوئے میدان جنگ میں کود پڑے تھے تو یہ سوال عالمی سطح پر اٹھایا گیا تھا کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی کوئی تعریف طے کر لی جائے تاکہ غیر متعلقہ اور بے گناہ افراد و طبقات اس کا شکار نہ ہوں۔ کیونکہ بین الاقوامی برادری مظلوم اقوام کی آزادی کا حق تسلیم کرتی آرہی ہے اور معاندانہ ریاستی جبر کے خلاف جائز حد تک مزاحمت کے حق کو بھی روا سمجھا جاتا ہے، جبکہ مبینہ دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ میں اس کا کوئی فرق ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۹ء

’’غیر قانونی‘‘ مساجد کو مسمار کرنے کا مسئلہ

اسلام آباد میں مبینہ طور پر غیر قانونی مساجد میں سے چند مساجد کو مسمار کرنے اور دیگر مساجد کو گرانے کا نوٹس دیے جانے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، وہ ایک نئے بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور دینی جماعتوں کا احتجاج اس سلسلے میں منظم ہوتا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مساجد اور کچھ مدارس اجازت کے بغیر تعمیر ہوئے ہیں جو غیر قانونی ہیں اور قانون کے مطابق انھیں مسمار کرنا ضروری ہے۔ سرکاری حلقوں کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تمام مساجد اور مدارس کو شہید کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۷ء

”گینگ ریپ“ پر سزائے موت اور علماء کرام

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی نے ’’گینگ ریپ‘‘ پر سزائے موت کا قانون منظور کیا تو اس پر بعض سرکردہ علماء کرام نے یہ اعتراض کر دیا کہ سزائے موت کا یہ قانون شرعی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے اسے عجلت میں منظور نہ کیا جائے اور اس پر سرکردہ علمائے کرام سے رائے لی جائے۔ ’’اجتماعی آبروریزی‘‘ کے واقعات کچھ عرصہ سے جس کثرت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں اس کی روک تھام کے لیے قومی اسمبلی کو اس قانون کی ضرورت محسوس ہوئی ہے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اجتماعی آبروریزی کے حیاسوز واقعات کی روک تھام کے سلسلہ میں اپنے وعدہ کی تکمیل کے لیے یہ قانون منظور کرایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۱۹۹۷ء

جنرل مشرف کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے وہ نئی نہیں ہیں بلکہ یہ اس دستوری آنکھ مچولی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک مسلسل جاری ہے، اور جس میں ہمارے حکمران طبقات باری باری طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینے اور پھر اسے کنٹرول میں رکھنے کا تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد سے اس کھیل کا آغاز ہوا اور اسکندر مرزا، جنرل محمد ایوب خان، جنرل محمد یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار سے گزرتا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۰۲ء

جامعہ حفصہ ۔ مذاکرات کے بعد

جامعہ حفصہ کے المیہ کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ اس قضیہ کے آغاز سے ہی میں نے اس کے حوالے سے اپنے تاثرات لکھنا شروع کر دیے تھے جو روزنامہ اسلام، روزنامہ پاکستان، ماہنامہ الشریعہ اور ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس عنوان پر لکھے گئے میرے بیس مضامین کا مجموعہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے ایک سو تیس صفحات پر مشتمل کتابچہ کی صورت میں شائع کر دیا ہے اور میرے خیال میں اس کے کسی پہلو پر مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی، البتہ ایک پہلو تشنہ رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ دسمبر ۲۰۰۷ء

قومی نظام تعلیم اور آغا خان تعلیمی بورڈ

’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ’’فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن‘‘ کے بہترین اساتذہ میں انعامات کی تقسیم سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دینی مدارس کے لیے چھ ارب روپے رکھے گئے تھے جن میں سے پانچ ارب روپے دیے جا چکے ہیں اور ایک ارب روپے اب بھی موجود ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ خبر ’’انکشاف‘‘ کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے کہ یہ بات تو درست ہے کہ وفاقی حکومت نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ نومبر ۲۰۰۴ء

وفاق المدارس العربیہ کا کنونشن

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام ۱۵ مئی ۲۰۰۵ء کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقد ہونے والا دینی مدارس کنونشن اس حوالے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے حالیہ اجلاس کے بعد دینی مدارس کے بارے میں حکومت کی نئی پالیسی اور حکمت عملی سامنے آگئی ہے۔ چنانچہ ۱۵ مئی کے مذکورہ کنونشن کی کارروائی اس لیے بھی ملک بھر کے عوام کی توجہ کا مرکز ہوگی کہ نئی حکومتی پالیسی کا ردعمل دینی مدارس کے اس سب سے قدیمی اور سب سے بڑے وفاق کی طرف سے کیا سامنے آتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کے حوالے سے چار اہم خبریں

دینی مدارس کے حوالے سے اس ہفتے کے دوران کی چار اہم خبریں اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں۔ پہلی خبر یہ ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور دہشت گردوں کی تلاش میں اب شہروں میں بھی دینی مدارس پر چھاپے مارے جائیں گے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں یہ بات واضح طور پر کہہ دی گئی ہے کہ چونکہ دینی مدارس کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے صرف تعلیمی مقاصد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی اسناد اور فرقہ وارانہ تعلیم

دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رجسٹریشن کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس بیک وقت سامنے آگئے ہیں اور دین کی تعلیم دینے والی درس گاہیں ایک بار پھر ملک بھر میں گفتگو اور تبصروں کا موضوع بن گئی ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اگست ۲۰۰۵ء

تحفظ نسواں بل اور دینی حلقے

سینیٹر مولانا سمیع الحق نے سینٹ آف پاکستان میں ’’تحفظ نسواں بل‘‘ میں دس ترامیم پیش کر کے ان اہم امور کی آن ریکارڈ نشاندہی کر دی ہے جو مذکورہ بل میں دینی نقطہ نظر سے متنازع ہیں اور جن کی موجودگی میں ملک بھر کے دینی حلقے اس بل کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے کر اس کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کا جو مسودہ قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی نے منظور کیا تھا، اس پر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے سرکردہ علماء کرام سے رائے لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۰۶ء

پاک فوج صومالیہ کے بعد اب عراق میں

عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے حوالے سے اخبارات میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور جوں جوں عراق میں امریکی فوجیوں پر حملوں اور ان کی لاشوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں پاکستانی فوج بھیجنے کی ضرورت و اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اور ہمارے حکمرانوں کے انداز سے لگتا ہے کہ صومالیہ کی طرح عراق میں بھی امریکی فوجیوں کی ڈھال کے طور پر پاک فوج کے جوانوں کو تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور اب صرف تفصیلات طے ہونے کا انتظار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۲۰۰۳ء

ماضی کے عوامی مظاہروں کی چند جھلکیاں

جوں جوں ۲۷ اکتوبر قریب آ رہی ہے ’’آزادی مارچ‘‘ پر بحث و مباحثہ کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور مختلف نوع کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بڑا ہدف تو حاصل کر لیا ہے کہ پوری اپوزیشن کو اپنے ساتھ کھڑا کر کے حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کے بارے میں فیصلہ اس کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ چنانچہ اب بات حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کم، اور حکومت اور اپوزیشن کے عنوان سے زیادہ ہونے لگی ہے اور اپوزیشن کی ’’رہبر کمیٹی‘‘ کے موقف اور فیصلے پر مذاکرات کا دارومدار دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۲۰۱۹ء

پاک بھارت تعلقات اور بین الاقوامی سیاست

جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل محمد عزیز خان نے گزشتہ دنوں راولاکوٹ کی ایک تقریب میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ قوم کے ہر باشعور شہری کے دل کی آواز ہے اور ہمیں ان باتوں پر اس لیے بھی زیادہ خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ کافی عرصہ کے بعد ’’ادھر سے‘‘ ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا آیا ہے جس سے تپش اور لو کے اس موسم میں وقتی طور پر ہی سہی، مگر کچھ سکون سا محسوس ہوا ہے۔ جنرل صاحب نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے یہ کہہ کر قوم کو گزشتہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہندو مسلم کشمکش کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جون ۲۰۰۳ء

مدرسہ آرڈیننس کے مضمرات

گزشتہ روز ملتان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی خصوصی دعوت پر شرکت کا موقع ملا۔ اگرچہ وفاق میں شامل ایک تعلیمی ادارہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سالوں سے تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں، مگر وفاق المدارس کے کسی اجلاس میں حاضری کا پہلی بار اتفاق ہوا۔ وفاق کا قیام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمہم اللہ کی مساعی سے عمل میں آیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی۲۰۰۲ء

تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی نئی بحث اور SDPI کی رپورٹ

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی بحث ابھی جاری تھی کہ ریاستی تعلیمی نصاب میں اصلاحات و ترامیم کا ’’پنڈوراباکس‘‘ بھی کھول دیا گیا ہے اور مختلف رپورٹوں اور تجاویز کی صورت میں یہ تقاضے شروع ہوگئے ہیں کہ عالمی اور جنوبی ایشیا کی سطحوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی تعلیمی نظام کی ’’اوورہالنگ‘‘ کی جائے اور نصاب کے اہداف اور مواد، دونوں پر نظر ثانی کرکے اسے ازسرِنو ترتیب دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مارچ ۲۰۰۴ء

ایٹمی عدم پھیلاؤ کی مہم اور عالمی استعمار کا اصل مشن

ڈاکٹر عبد القدیر کے ’’اعتراف جرم‘‘ اور وفاقی کابینہ کی طرف سے سفارش کے بعد صدر پرویز مشرف نے ان کے لیے جس معافی کا اعلان کیا ہے، اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس سے مسئلہ نمٹ جائے گا اور ایٹمی پھیلاؤ کے مبینہ جرم کے ارتکاب کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف جو الزامات عالمی سطح پر سامنے آرہے ہیں، ان کی شدت میں شاید اب کمی آجائے گی، لیکن دوسری طرف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر کا مبینہ اعتراف جرم اس وسیع جال کی پہلی کڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۰۴ء

ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ ۔ چند گزارشات

ایٹمی سائنس دانوں کی ’’ڈی بریفنگ’’ جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے، عوام کے اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کے رفقاء کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایٹمی راز فروخت کیے اور دوسرے ممالک کو ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں مدد دی۔ سائنس دانوں کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کا تذکرہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے، جبکہ بعض معزز جج صاحبان کو شکوہ ہے کہ انہیں ضروری معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۰۴ء

پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ اور سعودی پاسپورٹ کا حوالہ

پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کو ختم کرنے کا معاملہ اس قدر سادہ اور معمولی نہیں ہے کہ اسے اس طرح خاموشی کے ساتھ نمٹا لیا جائے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے ایک سو سال کی جدوجہد ہے اور اس مسئلہ کے قادیانی پس منظر کے حوالے سے یہ معاملہ انتہائی حساس اور نازک ہے جس کا تعلق مسلمانوں کے عقیدہ اور جذبات کے ساتھ ہے۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ اب سے ربع صدی قبل قادیانی پس منظر میں ہی کیا گیا تھا جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے جمہوری طریقے سے مکمل بحث و تمحیص ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۰۵ء

Pages