مقالات و مضامین

مذہب و ثقافت کی عالمی کشمکش اور چین کے صدر محترم

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۵ اپریل ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’چینی صدر شی جن پنگ نے ملک کی مذہبی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اقدار کو چینی ثقافت اور کمیونسٹ پارٹی سے ہم آہنگ بنائیں، چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بات بیجنگ میں پارٹی کے مذہب کے بارے میں خدوخال بتاتے ہوئے کہی، صدر شی نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی خدا سے زیادہ اہم ہے، مذہبی تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے وابستہ رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۶ء

اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان عالمی کشمکش ۔ نیوٹ کنگرچ کے خیالات

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے کہا ہے کہ جو مسلمان شریعت پر یقین رکھتے ہیں انہیں امریکہ سے نکال دیا جائے۔ اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ ایوان نمائندگان (کانگریس) کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مغربی تہذیب حالت جنگ میں ہے، شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۶ء

اسلام مخالف مہم اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین نے گزشتہ روز رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی حفظہ اللہ تعالیٰ سے ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے دوران دو اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جس کی طرف نہ صرف رابطہ عالم اسلامی بلکہ عالم اسلام کے دیگر بین الاقوامی اداروں اور علمی و دینی مراکز کو بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ ایک بات یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر چلائی جانے والی مہم اور پروپیگنڈا کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے اور صدر محترم کے نزدیک رابطہ عالم اسلامی اس کے لیے موزوں فورم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۵ء

اردو زبان کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ماہ سے بھی کم مدت تک چیف جسٹس رہنے والے فاضل جج محترم جسٹس جواد ایس خواجہ گزشتہ روز ریٹائر ہو گئے ہیں مگر ریٹائر منٹ سے پہلے انہوں نے سپریم کورٹ کے فل بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک ایسا تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آئندہ نسلیں یقیناً انہیں دعائیں دیتی رہیں گی۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے بارے میں یہ خبریں بھی اخبارات کی زینت بنی ہیں کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران نہ کوئی سرکاری پلاٹ لیا اور نہ ہی امتیازی پروٹوکول اور مراعات سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۵ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں

جامعۃ الرشید کراچی میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سودی بینکاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے غیر سودی بینکاری کا تجربہ ضروری ہے اور اس وقت اس حوالہ سے جو محنت ہو رہی ہے اس کی اصلاح اور مزید بہتری کے لیے کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد نے جامعۃ الخیر لاہور میں ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی بینکاری کا متبادل شرعی نظام موجود ہے مگر اسے چلانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی جدوجہد اور مقتدر طبقات کی روش

۳ اپریل ۲۰۱۶ء کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور معاونین لاکھوں کی تعداد میں ’’استحکام پاکستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے جمع ہو کر ملکی صورتحال اور دینی مدارس کی معاشرتی جدوجہد کے حوالہ سے اپنے موقف اور عزائم کا ایک بار پھر اظہار کر رہے ہیں جو بلاشبہ اہل حق کی جدوجہد اور تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ آج دینی مدارس کی یہ محنت اپنے علمی و فکری ماحول اور دینی و تہذیبی اثرات و نتائج کے حوالے سے دنیا بھر میں ہر سطح پر بحث و گفتگو کا موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۶ء

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

ممتاز بھارتی کالم نگار ڈاکٹر وید پرتاب ویدک کے روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارت کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک انقلابی فیصلہ دیا ہے، اس نے ایک غیر شادی شدہ والدہ کی اس اپیل کو قبول کر لیا ہے کہ اس کا بچہ اپنے والد کی بجائے اپنی والدہ کا نام لکھے، اب ایسے بچوں کو اپنے والد کا نام لکھنا بتانا ضروری نہیں ہوگا۔ عدالت کا یہ فیصلہ پڑھتے ہی میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سب بھارتی ہر جگہ اپنی ماں کا نام لکھیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

ایران کا ایٹمی سمجھوتہ اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل

ایران کے ساتھ چھ بڑے ممالک کے ایٹمی سمجھوتے پر دنیا بھر میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، ایران میں اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہوئے جشن کا سماں ہے، اقتصادی پابندیوں کے ختم ہو جانے پر ہر طرف خوشی منائی جا رہی ہے اور اسے ایران کی سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ معروضی صورتحال میں ہمیں بھی اس سے اختلاف نہیں ہے مگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو اسے حالات کے جبر اور طاقت کی حکمرانی کے روایتی طریقِ کار کی ایک بار پھر توثیق کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

انسانی حقوق سیکرٹریٹ اور علمی اداروں کی ذمہ داری

روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۸ اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’وزیر اعظم نواز شریف نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے جو انسانی حقوق سے متعلق عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا، وزارت قانون نے نظام انصاف کو مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اصلاحات پر مبنی سمری وزیر اعظم کو بھجوائی تھی جس کی روشنی میں وزیر اعظم نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۵ء

عوام میں حلال و حرام کا شعور بیدار کرنے کی مہم

روزنامہ اوصاف لاہور نے ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء کی ایک خبر میں بتایا ہے کہ: ’’پنجاب حلال ڈیویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سور کے گوشت اور دیگر حصوں کو ۱۰۰ سے زائد کھانے والی اشیا میں استعمال کیا جا رہا ہے جس کو مسلمان بھی انجانے میں استعمال کر رہے ہیں، اس لیے علماء کرام عوام میں حلال و حرام کے استعمال کے حوالہ سے شعور پیدا کریں کہ صرف گوشت ہی حلال اور حرام نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

امت مسلمہ اور اقوام متحدہ ۔ چند ضروری گزارشات

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے اور اسلام کے خلاف متعصبانہ رویے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردارکشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

سزائے موت کا قانون اور پاپائے روم

روزنامہ جنگ کراچی ۲۲ فروری ۲۰۱۶ء میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ موت کی سزا ختم کر دینی چاہیے، تمام حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مشترکہ رائے سے موت کی سزا کو ختم کر دیں، کیونکہ اس طرح حکومتیں کسی انسان کی ہلاکت کی مرتکب نہیں ہوں گی۔ ویٹی کن سٹی میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پوپ نے ہزاروں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا بھر کے مسیحیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ موت کی سزا کے خاتمہ کے لیے اپنی کوشش شروع کر دیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۶ء

امت مسلمہ کی حالت زار اور اہل دین کی ذمہ داری

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی آج ہمارے سامنے ایک زندہ حقیقت کی صورت میں جلوہ گر ہے کہ ’’تداعت علیکم الامم تداع الاکلۃ علی قصعتھا‘‘ دنیا کی قومیں تم مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے تیار دسترخوان پر کوئی میزبان اپنے مہمان کو کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ آج ہم مسلمان دنیا کی قوموں کے سامنے ’’تر لقمہ‘‘ کی صورت میں بکھرے پڑے ہیں اور استعماری عزائم رکھنے والی ہر قوم حسب استطاعت اپنا حصہ وصول کرنے میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۹ء

ریاست مدینہ کی ایک ’’این جی او‘‘

معروف مفسر و مؤرخ حافظ ابن کثیرؒ اور دیگر مفسرین نے سورۃ التوبۃ کی آیات ۱۰۷ تا ۱۱۰ کی تشریح میں مختلف روایات کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار کے قبیلہ بن خزرج کا ایک شخص ابو عامر جو پہلے سے عیسائی ہوگیا تھا اور مسیحیت کا علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کثرت عبادت کی وجہ سے راہب کہلاتا تھا، وہ بھی جناب نبی اکرمؐ کی مخالفت میں پیش پیش تھا۔ علاقہ میں اس کا اپنا ایک حلقہ قائم ہو چکا تھا اور اس کی عقیدت کا ماحول پایا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۱۹ء

اردو زبان اور حکومتی رویہ

ان دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اردو زبان کے بارے میں حکومتی رویہ پر بحث جاری ہے اور فاضل جج صاحبان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت اردو کو سرکاری زبان بنانے کے حوالہ سے اپنی دستوری ذمہ داریاں پوری کرے۔ اس ضمن میں روزنامہ اوصاف لاہور میں ۲۵ اپریل ۲۰۱۵ء کو ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے حوالہ سے شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں۔ ’’دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں سے اردو دوسری بڑی زبان بن چکی ہے جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے خیالات

وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید کی ایک تقریر کے کچھ اقتباسات ان دنوں قومی پریس میں زیر بحث ہیں جو انہوں نے گزشتہ دنوں آرٹس کونسل کراچی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی ہے اور جس میں انہوں نے دینی مدارس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’ہماری نفسیات کا حصہ ہے کہ بچوں کو بھی علم سے محروم رکھو اور بڑوں کو بھی علم سے محروم رکھو، اب کتاب تو وجود میں آچکی، اسکول تو وجود میں آچکے، جب پاکستان بنتا ہے، یہ انگریز کا تحفہ ہے، اس کو بند نہیں کیا جا سکتا، اس سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

یمن کا تنازعہ اور عالمِ اسلام کی ذمہ داری

یمن کا تنازعہ رفتہ رفتہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو اس خاص رُخ کی طرف لے جا رہا ہے جس کی نشاندہی ہم ایک عرصہ سے کرتے آ رہے ہیں کہ اس خطہ میں ایران اور سعودی عرب کی کشمکش نے سنی شیعہ کشیدگی کو خانہ جنگی کا مستقل محاذ بنا دیا ہے اور دن بدن اس کے دائرے میں وسعت دکھائی دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے اصلاً تو امریکی استعمار، اسرائیل اور ان کے ہمنوا عالمی حلقے ہیں جن کی دلچسپی شروع سے اس بات میں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عرب اور مسلمان ممالک کے درمیان کوئی ایسی وحدت اور اشتراکِ عمل وجود میں نہ آ سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۵ء

دیوبند کے حالیہ سفر کی مختصر روداد

شیخ الہندؒ ایجوکیشنل چیریٹی ٹرسٹ دیوبند کی دعوت پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے وفد کے ہمراہ دیوبند دہلی اور بھارت کے بعض دیگر شہروں میں حاضری اور متعدد بزرگوں سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے شیخ الہند ؒ کی تحریک ریشمی رومال کو ایک صدی مکمل ہونے پر صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا اور اسی کے تحت ۱۳ و ۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء کو دیوبند میں اور ۱۵ دسمبر کو دہلی میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۴ء

قربانی کا مقصد: رضائے الٰہی اور انسانی اخوت

اس دفعہ عید الاضحٰی اور یومِ آزادی اکٹھے آرہے ہیں اور وطن عزیز کے مسلمان جہاں جانوروں کی قربانی کریں گے وہاں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کے ماحول کی انسانی قربانیوں کو یاد کریں گے اور عالم اسلام خصوصاً اپنے پڑوس مقبوضہ کشمیر میں انہی قربانیوں کے تسلسل میں قربان ہونے والے مظلوم مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہ ایزدگی میں ان کے لیے دعاگو ہوں گے۔ گزشتہ روز عرفات کے میدان میں اس سال کے امیر حج محترم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا ہے اس میں کشمیر، فلسطین، اراکان اور دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۱۹ء

سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

گزشتہ ہفتہ کے دوران ۶ اگست کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے منعقدہ ’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے ریکٹر محترم ڈاکٹر محمد یاسین معصوم زئی میرِ محفل تھے جبکہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور محنت سیمینار کی بھرپور کامیابی میں نمایاں طور پر جھلک رہی تھی۔ قومی اسمبلی میں انسدادِ سود کا بل پیش کرنے والے مولانا عبد الاکبر چترالی ایم این اے مہمان خصوصی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۱۹ء

اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور فلسطین پر اس کے قبضہ کا پس منظر

غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری اور زمینی فوجوں کی کاروائیاں مسلسل جاری ہیں، سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، مکانات جل گئے ہیں اور ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، مگر عالمِ اسلام پر سکوت مرگ طاری ہے اور خاص طور پر مسلم حکمران بے حسی اور بے بسی کی عبرتناک تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل جب سے وجود میں آیا ہے اس کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف جبر و تشدد اور ظلم و استبداد کا یہ عمل مسلسل جاری ہے، لاکھوں فلسطینی دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۴ء

پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیاں

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی متعدد این جی اوز کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کہ ملکی مفاد کے خلاف کسی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی کام کرنے والی این جی اوز کو بند کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

اراکانی مسلمانوں کی حالت زار

میانمار (برما) میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، اس کے بارے میں دو تازہ رپورٹیں ملاحظہ فرمائیں۔ایک رپورٹ روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ جون ۲۰۱۵ء کو اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین آفس کے حوالہ سے شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ’’میانمار کی مغربی ریاست راکھینی (اراکان) میں تین برسوں سے جاری خانہ جنگی سے تباہ حال پانچ لاکھ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ضرورت ہے، ان افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں، ان لوگوں میں سے ۴ لاکھ ۱۶ ہزار سے زیادہ کی تعداد کو مدد کی شدید ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

سود سے پاک معاشی نظام اور دستوری تقاضہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا مستقبل روشن ہے جبکہ پچھلے چار عشروں میں عالمی سطح پر اسلامی مالیات میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ کی روایتی اسلامی منڈیوں کے علاوہ مختلف مغربی ممالک کے مالی مراکز بھی اس متبادل مالی نظام کی قوت اور افادیت کو تسلیم کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

ہم جنس پرستی اور انجیل مقدس

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی انڈیپنڈس پارٹی کے ایک کونسلر ڈیوڈ سلوسٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ میں حالیہ طوفانی سیلاب ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے باعث خدائی عذاب کی علامت ہیں، اور وزیر اعظم نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دے کر انجیل مقدس کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے حالیہ طوفان اور سیلاب آئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف افسوسناک مہم

گزشتہ دنوں سینٹ آف پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے اسلامی نظریاتی کونسل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور کی باقیات میں سے ہے اور اپنا کام مکمل کر چکی ہے اس لیے اس کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیانات اس وقت ہمارے ہاں زیادہ تر زیر بحث ہیں، ایک کشمیر کے بارے میں ہے اور دوسرا افغانستان کے حوالہ سے، ان دونوں خطوں کے ساتھ ہماری ثقافتی، دینی اور جذباتی وابستگی ہے اس لیے فطری طور پر بحث و مباحثہ میں تنوع اور جذباتیت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر کشمیر کے مسئلہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے تو قبول کر لیا مگر بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۱۹ء

ایران میں گیارہ روز: ایرانی انقلاب کے اثرات، معاشرتی تبدیلیاں، اور اہل سنت کے مسائل

کوئٹہ کی جامع مسجد سفید کے خطیب مولانا قاری عبد الرحمٰن ایرانی انقلاب کے ان پرجوش حامیوں میں شمار ہوتے ہیں جو نہ صرف خود انقلابِ ایران کے محاسن و فضائل کے پرچار میں مصروف رہتے ہیں بلکہ ان کی مسلسل کوشش رہتی ہے کہ پاکستان کے دینی حلقوں کے روابط ایرانی انقلاب کے رہنماؤں کے ساتھ مثبت بنیادوں پر استوار ہوں اور پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے سلسلہ میں ایران کے انقلابی رہنماؤں کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔ گزشتہ سال حج بیت اللہ کے موقع پر مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں ان سے ملاقات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۱۹۸۷ء

قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ

چند روز قبل امریکہ کے صدر جناب ٹرمپ کے ساتھ ایک قادیانی وفد کی ملاقات کی خبر سے قادیانی مسئلہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ قادیانی وفد نے امریکی صدر سے شکایت کی ہے کہ پاکستان میں انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا اس کے جواب میں صدر امریکہ نے کیا کہا اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا مگر اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو بحث و تمحیص کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے وہ بہرحال توجہ طلب ہے۔ اس حوالہ سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ شکایت صدر امریکہ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد کیا ہے؟ مکمل تحریر

۳ اگست ۲۰۱۹ء

تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

حضرت مولانا طارق جمیل سے منسوب یہ بات میرے لیے تعجب کا باعث بنی ہے جس میں انہوں نے اپنے عقیدت مندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ سیاست میں فریق نہ بنیں اور کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بنیں، یہ بات اگر انہوں نے کہی ہے تو مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے مگر انہیں اپنی رائے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ البتہ اس سے مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے کہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہم سب کے مخدوم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۹ء

دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

۱۹۸۸ء کے لگ بھگ کی بات ہے امریکی ریاست جارجیا کے ایک شہر اگستا میں گکھڑ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست افتخار رانا کے ہاں کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا کہ کسی سمجھدار سے مسیحی مذہبی راہنما سے ملاقات و گفتگو کو جی چاہتا ہے، انہوں نے جارجیا کے صدر مقام اٹلانٹا کے ایک پادری صاحب سے، جو بیپٹسٹ فرقہ کے اس علاقہ کے چیف تھے، بات کر کے وقت لے لیا اور ملاقات کا اہتمام کیا، جبکہ رانا صاحب خود بطور ترجمان گفتگو میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جولائی ۲۰۱۹ء

پاپائے روم کا حقیقت پسندانہ موقف

فرانسیسی جریدہ میں گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت کے بعد جہاں مغربی ممالک کے حکمران آزادئ رائے کے نام پر اس گستاخانہ طرز عمل کا مسلسل دفاع کر رہے ہیں وہاں مسیحی دنیا کے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ فرانسِس نے یہ بیان دے کر معقولیت کا مظاہرہ کیا ہے کہ آزادئ رائے کے نام پر کسی کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور توہین کا آزادئ رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے خلاف منفی مہم کا نیا راؤنڈ

دینی مدارس ایک بار پھر بین الاقوامی اور قومی سطح پر اعتراضات اور تنقید کے ساتھ ساتھ قومی پالیسی کے تحت بعض متوقع اہم اقدامات کا ہدف ہیں اور میڈیا اور لابنگ کے محاذ پر سیکولر لابیاں اس صورتحال کو دینی مدارس کے خلاف استعمال کرنے میں پوری چابکدستی کے ساتھ مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے ساتھ مختلف مذہبی مکاتب فکر کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات میں راقم الحروف بھی شریک تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف نئی قومی پالیسی کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۵ء

ووٹ کا حق اور روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی

روزنامہ اسلام لاہور ۱۳ فروری ۲۰۱۵ء کی ایک خبر کے مطابق برما کے روہنگیا مسلمانوں کو چند روز تک ہونے والے ایک ریفرنڈم میں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے اور بودھوں کے ایک مظاہرہ کے بعد میانمار (برما) کے وزیر اعظم تھین سین نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ریفرنڈم میں روہنگیا مسلمان ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۵ء

قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلہ میں تحفظات

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’قومی ایکشن پلان‘‘ پر عملدرآمد جاری ہے، فوجی عدالتیں تشکیل پا گئی ہیں اور ملک بھر میں گرفتاریوں، سزاؤں اور پابندیوں کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پوری قوم متحد ہے اور تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے نہ صرف اس قومی عزم کی حمایت کی ہے بلکہ وہ اس میں بھرپور تعاون بھی کر رہی ہیں مگر اس سلسلہ میں بعض حلقوں کی طرف سے تحفظات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے جن پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۵ء

غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

دنیا میں سودی نظام کی تباہ کاریوں کا شعور جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے خلاف ردعمل جس طرح منظم ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی آسمانی تعلیمات کی اہمیت و برکات کا احساس بھی دھیرے دھیرے اجاگر ہو رہا ہے۔ جبکہ علمی اور فکری دنیا میں یہ بات اب کم و بیش طے سمجھی جاتی ہے کہ سودی نظام نے نسل انسانی کو اخلاقی تباہی اور معاشی انارکی کے سوا کچھ نہیں دیا اور اصلاحِ احوال کے لیے اب قرآن کریم کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۵ء

دہشت گردی کے اصل مراکز

نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے میں جو اسلحہ پکڑا گیا ہے اور جس طرح درجنوں مقدمات میں مطلوب مجرم حراست میں لیے گئے ہیں اس سے دینی حلقوں کا یہ موقف ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ یہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اور مختلف حوالوں سے موجود ہے۔ اس لیے اس کے لیے دینی حلقوں اور مدارس کو مطعون کرنا اور ان کے خلاف کردار کشی اور منافرت کی مہم کو آگے بڑھانا نہ صرف یہ کہ درست نہیں ہے بلکہ ملک و قوم کے مفاد میں بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۵ء

’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والا مدرسہ ڈسکورسز کا پروگرام اور اس میں میری شمولیت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے موقف اور طرز عمل کی وضاحت کروں۔ چنانچہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، مگر اس سے پہلے اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کے سامنے دوبارہ لانا چاہوں گا جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اپریل ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں ’’دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۱۹ء

آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود اور وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کے ساتھ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ۱۶ جولائی کو ہونے والی ملاقات کی تفصیلات مختلف خبروں اور کالموں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی، راقم الحروف بھی اس ملاقات میں شریک تھا اور ایک خاموش سامع کے طور پر پوری کاروائی کا حصہ رہا۔ مجھے جب اس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ دینی مدارس کے سلسلہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں کے تسلسل میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۱۹ء

بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

گوجرانوالہ میں علماء کرام نے حسب روایت تاجر برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اجتماعات کا اہتمام کیا ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ ایک صدی سے معمول چلا آرہا ہے کہ کوئی قومی، دینی یا شہری مسئلہ ہو علماء کرام، وکلاء اور تاجر راہنما باہمی مشاورت کا اہتمام کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ شہریوں کو مشترکہ موقف اور راہنمائی فراہم کی جائے۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۲۰۱۹ء

بجٹ کے مسائل اور حضرت شاہ ولی اللہؒ

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اب سے تین صدیاں قبل سرکاری خزانے اور ٹیکسوں کے نظام پر بحث کرتے ہوئے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں تحریر فرمایا تھا کہ: ’’ہمارے زمانے میں ملک کی ویرانی کے بڑے اسباب دو ہیں۔ ایک یہ کہ لوگوں کا بیت المال پر بوجھ بن جانا، اس طرح کہ بہت سے لوگ سرکاری خزانے سے وصولی کو ہی کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ وہ ملک کے لیے لڑنے والوں میں سے ہیں، یا ان علماء میں سے ہیں جو سرکاری خزانے پر اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۱۹ء

نفاذِ شریعت کے نام پر تشدد روا نہیں ہے

۱۶ دسمبر کو پشاور کے ایک سکول میں دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر، جن میں غالب اکثریت بچوں کی ہے، ملک کا ہر شخص سوگوار ہے اور اس دہشت ناک سانحہ نے نہ صرف بہت سے پریشان کن سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیکولرازم کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا کو ایک بار پھر عالمی سطح پر یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے دینی مدارس کے بارے میں کردارکشی کی مہم کو نئے سرے سے منظم کرے اور دینی حلقوں کو بدنام کرنے کے لیے اور زیادہ سرگرم عمل ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۵ء

دار العلوم تعلیم قرآن راولپنڈی کا سانحہ اور مستقبل کے خدشات

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میرپور آزاد کشمیر میں تھا جہاں جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبدالخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۴ء

خواتین کی نسل کشی اور نسوانیت کشی

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۲ اپریل ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تنظیم خواتین کو نسلی امتیاز کی بنیاد پر درپیش مسائل اور منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی کے اقدامات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ’’جینڈر سائیڈ اویئرنیس پروجیکٹ‘‘ (Gendercide Awareness Project) کے نام سے کام کر رہی ہے۔اس تنظیم کی بانی اور چیئر پرسن بیورلی ہل (Beverley Hill) نے کہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جس میں چین سب سے آگے اور بھارت دوسرے نمبر پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۴ء

مسیحی دنیا میں قدیم و جدید کی کشمکش

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’ویٹیکن سٹی (اے پی اے) دو ہفتوں تک جاری رہنے والا کیتھولک مسیحیوں کے سینئر مذہبی اکابرین کا خصوصی اجلاس طلاق اور ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ نہیں دے پایا، اس صورتحال کو پوپ فرانسِس کے لیے دھچکا قرار دیا گیا ہے۔ ویٹیکن سٹی میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والی کیتھولک مشائخ سالانہ کانفرنس (SYNOD) کسی بڑے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۴ء

پاکستان میں سودی نظام کے حوالہ سے ایک رپورٹ

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۱۹ نومبر کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ہونے والی ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ: پاکستان میں اسلامک بینکاری کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ۹۵ فیصد عوام کا ماننا ہے کہ سود پر پابندی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی بینکوں میں سود کے موجودہ سسٹم کو بھی ختم ہونا چاہیے۔ تحقیق میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے موجودہ حجم سے ملک کے گھریلو اور کاروباری ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۴ء

علماء دیوبند کی سپریم کونسل کا قیام

امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند اور مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی تحریک پر ۱۸ نومبر کو اسلام آباد میں مسلک علماء دیوبند سے تعلق رکھنے والی بہت سی جماعتوں کے راہنماؤں اور دیگر شخصیات کا قومی سطح پر ایک مشترکہ اجتماع ہوا جس میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا حافظ حسین احمد، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا اشرف علی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اللہ وسایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۴ء

اردو کے پیپر میں ایک افسوسناک سوال

گریڈ ۸ کے ۲۰۱۴ء کے امتحانات میں ’’اردو‘‘ کا پرچہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جس کے ایک سوال کی طرف ہم حکومت اور قارئین کو توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ سوال ملاحظہ فرمائیے: ’’مندرجہ ذیل اشعار کو غور سے پڑھیں اور سوالات نمبر ۳۵ ، ۳۶، ۳۷، ۳۸، ۳۹ اور ۴۰ کے درست جوابات منتخب کریں۔ ایک دن حضرت عمر فاروق ؓ نے منبر پر کہا۔ میں تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظور؟ ایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھی۔ کہ تیرے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۴ء

تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی حکومت اور پاکستانی طالبان سے اپیل

اجتماع میں تیس سے زائد دینی تنظیموں کے دو سو سے زائد نمائندگان نے شرکت کی اور پاکستان شریعت کونسل کے دیگر رفقاء کے ہمراہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں۔ کانفرنس کے کم و بیش سبھی شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ ملک میں امن کے قیام کے لیے یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور وطن عزیز کے امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ بیرونی سازشوں کی روک تھام کے لیے بھی ان مذاکرات کی کامیابی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۴ء

سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

ہفتہ کے روز ایران سے واپس گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں مگر دوحہ سے لاہور کی فلائیٹ پانچ گھنٹے لیٹ ہونے کی وجہ سے اسباق میں حاضری نہیں ہو سکی۔ سفر کی مدت میں ایک دن کے اضافہ کی وجہ سے نیا روٹ قطر ایئرویز کے ذریعے تہران سے دوحہ اور وہاں سے لاہور کا ترتیب پایا۔ دوحہ میں اسٹاپ سات گھنٹے کا تھا مگر فلائیٹ کی روانگی میں پانچ گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے بارہ گھنٹے تک پھیل گیا جو میرے لیے آزمائش سے کم نہیں تھا۔ میرے ٹخنوں میں ایک عرصہ سے درد رہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۱۹ء

Pages